ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مسلم قیادت ناکام ہوئی، یا اسے دھوکہ دیاگیا؟ شاہد علی ایڈوکیٹ کا بڑا سوال

پریس کلب آف انڈیا میں ’وطن سماچار فورم‘ کی جانب سے ’’مسلم لیڈرشپ ناکام ہوئی‘‘؟ کے موضوع پر منعقدہ پروگرام میں قانونی ماہرین، تعلیمی ماہرین اور سیاستدانوں نے شرکت کی۔

  • Share this:
مسلم قیادت ناکام ہوئی، یا اسے دھوکہ دیاگیا؟ شاہد علی ایڈوکیٹ کا بڑا سوال
پریس کلب آف انڈیا میں ’وطن سماچار فورم‘ کی جانب سے ’’مسلم لیڈرشپ ناکام ہوئی‘‘؟ کے موضوع پر منعقدہ پروگرام میں قانونی ماہرین، تعلیمی ماہرین اور سیاستدانوں نے شرکت کی۔

پریس کلب آف انڈیا میں وطن سماچار فورم کی جانب سے ’’مسلم لیڈرشپ ناکام ہوئی؟‘‘ کے موضوع پر منعقدہ پروگرام میں قانونی ماہرین، تعلیمی ماہر اور سیاستدانوں نے شرکت کی۔


دہلی ہائی کورٹ کے سینئر وکیل اور ملی وسماجی مسائل پر آواز بلند کرنے والے شاہد علی ایڈوکیٹ نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیڈر شپ کامیاب رہی، یا ناکام یا پھر اسے دھوکہ دیا گیا یہ ایک اہم سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا دھوکہ مسلمانوں کو آئین بننے کے بعد آرٹیکل 341 میں صدارتی حکم لاکر دیا گیا۔ ریزرویشن کو مذہب سے جوڑ دیا گیا کہ سکھ، بودھ، عیسائی اور مسلمان ودلتوں کو ریزرویشن نہیں ملے گا۔


اس موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے چانسلر فیروز بخت احمد، آل انڈیاکانگریس اقلیتی مورچہ کے چیئرمین ندیم جاوید، اے ایم یو اولڈبوائز، لکھنو کے صدرطارق صدیقی وغیرہ موجود تھے۔ اس موقع پر کئی اہم لوگوں کو اعزاز سے بھی سرفراز کیا گیا۔ نظامت کے فرائض سینئر اردو صحافی محمد احمد نے انجام دیئے۔


شاہد علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ دوسرا دھوکہ ہماری وقف زمینوں کو لوٹنے کی کوشش کرکے کیا گیا، جبکہ یہ تجویز ہے کہ حکومت وقف کی زمینوں کو ایکوائر نہیں کرسکتی ہے جبکہ ہزاروں سے لے کر لاکھوں کی زمین حکومت نے ایکوائر کئے اور وہ سسٹم کو اپنے ہاتھ میں غلط طریقے سے رکھنے کی کوشش کی جبکہ حکومتوں کے کام کو گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے ذریعہ سرداروں کو دیا گیا،جسے گاندھی جی نے ایک بڑی آزادی کی بڑی جنگ کی وجہ سے تعبیر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تیسرا دھوکہ آرکے لوجیکل سروے آف انڈیا کے ذریعہ مسجدوں کو ویران کرکے کیا گیا، ایسی بہت ساری چیزیں ہیں، جس پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی سیل کے قومی صدر اور سابق ممبراسمبلی ندیم جاوید نے کہا کہ جب تک ملک کے مسلمان، دلت، آدیواسی، سکھ اور عیسائی اور دیگر محروم وپسماندہ طبقات آگے نہیں بڑھیں گے جب تک ہماری ترقی کا خواب مکمل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے سامنےبہت سے چیلنجز ہیں، زمینی سطح پر اتنے چیلنجز ہیں جن کوشمار کرنا ممکن نہیں۔ ندیم جاوید نے کہا کہ سماج کو اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی کیونکہ مغربی اترپردیش میں میں 80 ہزار ووٹ پاکر بھی ہار گیا کیونکہ اس وقت وزیراعظم مودی نے شمشان اور قبرستان کی بات کی، اس وقت میرے ذریعہ بنائے گئے سب سے بڑے شمشان گھاٹ کی فوٹو بھی اخباروں میں شائع ہوئی، لیکن جب ووٹ کی باری آئی تو مجھے ایک مخصوص مذہب سے ہونے کی وجہ سے ووٹ نہیں ملا۔
طارق صدیقی نے کہا کہ جوقوم کانسہ لے کر مانگتی ہے، وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ ہمیں مسلمانوں کی صورتحال کو سمجھنے کے لئے سیاست، اکنامی، سماجی اور جانکاری جیسے علاقوں میں دیکھنا ہوگا کہ مسلمانوں کی صورتحال کیا ہے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں عوام اور لیڈران نے بھی شرکت کی۔
First published: Jul 01, 2018 09:19 PM IST