உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اقلیتی طبقے کے لوگوں کو ٹارگیٹ بناکر ماحول میں گھولی جارہی ہے فرقہ واریت: مسلم لیگ

    مسلم لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر متین کہتے ہیں کہ جس انداز سے مسلم طبقے کے لوگوں کو ہدف بنایا جارہاہے اس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بی جے پی ایک بار پھر اپنی انہی بنیادوں اور موضوعات کی طرف لوٹ رہی ہے جس کے ذریعے وہ پہلے اقتدار تک پہنچی تھی

    مسلم لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر متین کہتے ہیں کہ جس انداز سے مسلم طبقے کے لوگوں کو ہدف بنایا جارہاہے اس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بی جے پی ایک بار پھر اپنی انہی بنیادوں اور موضوعات کی طرف لوٹ رہی ہے جس کے ذریعے وہ پہلے اقتدار تک پہنچی تھی

    مسلم لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر متین کہتے ہیں کہ جس انداز سے مسلم طبقے کے لوگوں کو ہدف بنایا جارہاہے اس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بی جے پی ایک بار پھر اپنی انہی بنیادوں اور موضوعات کی طرف لوٹ رہی ہے جس کے ذریعے وہ پہلے اقتدار تک پہنچی تھی

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    لکھنؤ: آل انڈیا یونائیٹڈ مسلم لیگ کے ریاستی صدر نے اتر پردیش کی بر سر اقتدار جماعت بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسمبلی الیکشن کے پیش نظر اتر پردیش کے ماحول میں فرقہ واریت کا زہر گھول کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسلم لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر متین کہتے ہیں کہ جس انداز سے مسلم طبقے کے لوگوں کو ہدف بنایا جارہاہے اس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بی جے پی ایک بار پھر اپنی انہی بنیادوں اور موضوعات کی طرف لوٹ رہی ہے جس کے ذریعے وہ پہلے اقتدار تک پہنچی تھی۔ اسی لئے یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی موجودہ ریاستی حکومت نے ہندو مسلم مذہبی کارڈ کھیلنا شروع کردیا ہے۔ کبھی دہشت گردی کے نام پر غریب لاچار فاقہ کش مسلم رکشے والوں اور مزدوروں کو دہشت گرد اور آتنکوادی بناکر کھانا بنانے والے کو کر کو بم بتا دیا جاتا ہے تو کبھی کلیم الدین جیسے اہم اور صاحب کردار عالم اور افتخار الدین جیسے سینئر و ایماندار آئی آی ایس کو پھنسانے کے لئے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کے الزام لگائے جاتے ہیں۔

    ڈاکٹر متین یہ بھی کہتے ہیں کہ پولس اور تحقیقی ایجنسیاں سرکاری مشینری کی طرح کام کررہی ہیں اسی لئے لوگوں کا یقین پولس اور ان ایجنسیوں سے اٹھتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر متین کہاں تک صحیح یا غلط ہیں اس کا تجزیہ سنجیدہ لوگ اور سیاسی و سماجی مبصرین اتر پردیش کے موجودہ حالات کی روشنی میں بہ آسانی کرسکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں میگسےسے ایوارڈ یافتہ سماجی کارکن سندیپ پانڈے نے بھی غریب لوگوں کی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے یہی کہاتھا کہ یوگی جی کے اشارے پر اتر پردیش کا ماحول خراب کرنے کی کوشش میں اتر پردیش کے کمزور مسلمانوں کو ٹار گیٹ کیا جارہاہے یہ بالکل مناسب نہیں ہے۔ جو لوگ دو وقت کی روٹی نہیں کما پارہے ہیں ان گھروں میں اسلحے کہاں سے نکل آئیں گے۔

    اہم اور خاص بات یہ بھی ہے کہ اب جس انداز کی کارروائیاں کی جارہی ہیں اس سے سماج کے کمزور طبقے کے لوگ تو خوف زدہ ہیں ہی بلکہ امن پسند لوگ بھی تشویش میں مبتلا ہیں معروف صحافی عامر صابری کہتے ہیں کہ اب اتر پردیش کے مسلمان اتنے خوف زدہ ہیں کہ ایک دوسرے کی تباہی بربادی کا تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ ان میں آواز اٹھانے اور احتجاج ومظاہرے کرنے کا حوصلہ بھی نہیں جو آواز اٹھاتا ہے یا تو وہ پولس کے جبر وتشدد کا شکار ہوتا ہے یا اسے سلاخوں کے پیچھے اذیت جھیلنی پڑتی ہےمعروف دانشور اور سماجی کارکن سید بلال نورانی اپنے تجزیے اور مشاہدے کی روشنی میں یہ کہتے ہیں کہ لکھنئو کے کئی علماء اور نام نہاد دانشوروں کی طرح اتر پردیش کے ہر شہر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بر سر اقتدار وزراء کے درباروں میں جاکر ذاتی مفاد تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن حکومت کی ظلم و زیادتیوں کے خلاف اپنا منھ نہیں کھولتے کیونکہ انہیں خطرہ لاحق ہے کہ اگر ان مولویوں نے اپنی زبان کھولی تو انکے کالے کارناموں کی فائلیں بھی کھُل جائیں گی اور کروڑوں اربوں کی جمع کی گئی مالیت کا حساب بھی دینا پڑ سکتا ہے۔

    اس لئے یہ لوگ صرف سرکاری درباروں میں تو جی حضوری کرتے ہیں کمزوروں پر ہونے والے مظالم کے خلاف زبان نہیں کھولتے جب اپنی قوم میں ہی ایسے مصلحت پسند اور بے ایمان لوگ قائد بنے بیٹھے ہوں تو دوسرے لوگوں سے کیسے شکوہ کیا جا سکتا ہے۔ بلال نورانی کہتے ہیں کہ “ مجھ کو اس قوم کی حالت پہ ترس آتا ہے۔۔جو بھی افراد ابھرتا ہے وہ بک جاتا ہے “منظر نامہ تو اسی طرح کا ہے سب کو اپنی تجوریاں اور املاک کی فکر ہے تو حکومت کے خلاف زبان کھولنے کی جرأت کون کرے ؟ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اب بھی اقلیتی طبقے کے لوگ کوئی مناسب قدم نہیں اٹھائیں گے۔ اتحاد کا مظاہرہ نہیں کریں گے ظلم و زیادتیو کے خلاف سامنے نہیں آئیں گے تو آنے والے وقت میں وہ لوگ بھی محفوظ نہیں رہیں گے جو اس وقت حکومت کی چاپالوسی اور غلامی کے طوق گلوں میں دال کر خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: