உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بیٹا۔ بیٹی نے ماں کی لاش لینے سے کیا انکار، مسلم کنبہ نے ادا کی سکھ خاتون کی آخری رسوم

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    دراصل، خاتون کے کنبے نے لاش لینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد پڑوس میں رہنے والے مسلم کنبے نے آخری رسوم کی ساری رسمیں نبھائیں۔

    • Share this:
    چندی گڑھ ۔ پنجاب  (Punjab) کے بٹھنڈا میں ایک مسلم کنبے نے سکھ خاتون کی آخری رسوم ادا کر سماج کے لئے مثال پیش کی ہے۔ دراصل، خاتون کے کنبے نے لاش لینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد پڑوس میں رہنے والے مسلم کنبے نے آخری رسوم کی ساری رسمیں نبھائیں۔ مسلم کنبے کے اس قدم کی لوگ ستائش کر رہے ہیں۔

    معاملہ مالیرکوٹلہ کا ہے۔ خاتون کی شناخت دلپریت کور کے طور پر ہوئی تھی۔ وہ گھریلو خادمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ گزشتہ دنوں وہ تیرتھ یاترا کے دوران بیمار ہو گئی تھی۔ پیر کے روز اس کی موت ہو گئی۔

    دلپریت کور کی آخری رسوم کرنے والے کنبے کے سربراہ محمد اسلم نے کہا ’ ہم انہیں رانی چاچی کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ ایک کرائے کے کمرے میں اکیلے رہتی تھی۔ ہمیں ان کی موت سے پہلے تک ان کے کنبے میں بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی۔ ان کی ماں اور بھائی دونوں کناڈا میں رہتے ہیں۔ ان کے سسرال والے سنگرور ضلع کے جھنڈا گاؤں کے رہنے والے بتائے جا رہے ہیں۔ رانی چاچی کا میکہ اور سسرال دونوں معاشی لحاظ سے خوشحال ہے‘۔

    اسلم مزید بتاتے ہیں’’ رانی چاچی کی موت کے بعد ان کے موبائل سے مجھے ان کے بیٹے اور بیٹی کا نمبر ملا۔ جب دونوں کو رانی چاچی کی موت کی خبر دی تو انہوں نے لاش لینے سے انکار کر دیا‘‘۔ انہوں نے آگے کہا ’ بیٹے سے مجھے پتہ چلا کہ رانی چاچی کا 1999 میں طلاق ہو چکا تھا جس کے بعد وہ یہیں اکیلے رہ رہی تھی۔ اتنے سالوں تک ان کے کنبے کے بارے میں ہمیں کچھ پتہ نہیں چل پایا۔ جب کنبے نے یہاں آنے سے انکار کر دیا تو ہمیں ہی ان کی آخری رسوم ادا کرنی پڑی‘۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: