ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ملی تنظیموں کے سربراہان کو کیا مایوس! جانیں کیا ہے معاملہ؟

سعودی عرب کو جب جب بھی کوئی داخلی یا خارجی چیلنج درپیش ہوا ہے، ان تنظیموں کے ذمہ داران نے سعودی عرب کی کھل کر حمایت کی ہے۔

  • Share this:
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ملی تنظیموں کے سربراہان کو کیا مایوس! جانیں کیا ہے معاملہ؟
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان: فائل فوٹو۔ فوٹو رائٹرز۔

سعودی عرب کے شہزادے اور ولی عہد محمد بن سلمان اپنا دو روزہ ہندوستان دورہ ختم کر کے واپس اپنے ملک لوٹ گئے ہیں۔ وہ دو دن قبل نئی دلی پہنچے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پروٹوکول توڑتے ہوئے خود ائیرپورٹ جا کر ان کا والہانہ استقبال کیا تھا۔ ان سے گرمجوشی کے ساتھ گلے ملے تھے۔ اس کے اگلے دن یہاں کے حیدرآباد ہاوس میں دونوں لیڈران کی میٹنگ ہوئی۔ اس دوران دونوں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں ہندوستان اور سعودی عرب کے مابین مختلف شعبوں میں تال میل قائم کرنے اور شراکت داری کو تیزی سے آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انسداد دہشت گردی کی کارروائی، سمندری سیکورٹی اور سائبر سیکورٹی جیسے شعبوں میں مزید مضبوط دو طرفہ تعاون کرنے پر زور دیا۔ دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی اور بامعنیٰ بات چیت کی۔ اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے تئیں اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا۔ مجموعی لحاظ سے دیکھیں تو یہ دورہ کافی کامیاب رہا اور اس دورہ سے دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں میں مزید مضبوطی آئی ہے۔


تاہم، محمد بن سلمان کے اس دورہ سے ملی تنظیموں کے سربراہان کو مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے۔ انہیں پوری امید تھی کہ ان سے ملاقات کے لئے بھی سرکاری سطح پر کوئی پروگرام بنایا جائے گا اور وہ اپنی سرزمین پر سعودی شہزادہ کا گرمجوشی کے ساتھ خیرمقدم کر سکیں گے۔ ان کی یہ امید بجا بھی تھی اور ہو بھی کیوں نا؟ ان کے دورہ سے کچھ دنوں پہلے سرکاری سطح پر ملی تنظیموں کے سربراہان سے ملاقات کے پروگرام کی چرچا زوروں پر تھی۔ اس کے لئے باقاعدہ طور پر خاکہ تیار بھی کیا جا رہا تھا۔ ان کی یہ امید اس لئے بھی بجا تھی کہ سعودی عرب سے، وہاں کے مقدس مقامات سے اور وہاں کے شاہی خاندان سے جو ان کی قلبی وابستگی ہے، اس کے مدنظر، ملاقات کی امید کرنا کوئی بے مطلب بھی نہیں تھا۔ نیز، سعودی عرب کو جب جب بھی کوئی داخلی یا خارجی چیلنج درپیش ہوا ہے، ان تنظیموں کے ذمہ داران نے سعودی عرب کی کھل کر حمایت کی ہے اور ساتھ ہی سعودی عرب نے بھی ہر موقع اور ہر موڑ پر ان کا ساتھ دیا ہے۔ ایسی صورت میں ملی تنظیموں کے سربراہان کی ولی عہد سے ملاقات نہ ہو پانا مایوس ہی کرنے والا ہے۔


دراصل، سعودی ولی عہد کے دورہ ہند سے تقریبا دو ہفتے پہلے نیوز 18 اردو نے کچھ ملی تنظیموں کے سربراہان اور مسلم دانشوروں سے اس دورہ کو لے کر بات بھی کی تھی۔ بات چیت میں انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں ولی عہد کے ہندوستان آنے سے بیحد خوشی ہے اور وہ ان سے ملاقات کے لئے پرجوش ہیں۔ کچھ ذمہ داران نے تو بیان جاری کر کے سعودی شہزادہ کا پیشگی خیرمقدم بھی کردیا تھا۔ اخبارات میں ایسے بیانات بھی دئیے گئے تھے جن میں سعودی حکومت کی اس کے ملی کاموں کے لئے ستائش کی گئی تھی۔ کچھ ذمہ داران نے بتایا تھا کہ ملاقات کے لئے سرکاری سطح پر ان کی بات چیت بھی ہوئی ہے اور اس کا خاکہ تیار کیا جا رہا ہے۔ نئی دلی میں واقع سعودی سفارت خانہ کی طرف سے بھی باقاعدہ ایک استقبالیہ کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں کئی سربراہان کو شامل کیا گیا تھا۔ کب ملنا ہے اور ہر ایک ذمہ دار کے ساتھ کتنے لوگ مل سکتے ہیں، ان سب پر بھی کام چل رہا تھا۔ نئی دلی کے وگیان بھون میں ہونے والے ایک پروگرام میں یہ ملاقات ہونی تھی۔ زیادہ تر ذمہ داران سے تو باقاعدہ ان کے رفقا کی فہرست متعلقہ حکام نے منگوا بھی لی تھی اور اگر کچھ اتنظار تھا تو صرف اسے حتمی شکل دینے کا۔ لیکن بالآخر ان ساری امیدوں پر پانی پھر گیا اور ذمہ داران کو مایوسی ہی ہاتھ لگی۔


شہزادہ سے ملنے کے لئے کیوں اتنے پرامید تھے یہ ملی سربراہان؟

دراصل، اس سے پہلے اردن کے شاہ عبداللہ جب فروری 2018 میں ہندوستان کے دورے پر آئے تھے تو سرکاری سطح پر پروگراموں کے علاوہ مسلم رہنماوں اور علما سے بھی ملاقات کے لئے ایک پروگرام رکھا گیا تھا۔ نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقد ایک پروگرام میں انہوں نے تقریبا تمام ملی جماعتوں کے رہنماوں سے ملاقات کی تھی۔ اسی سے حوصلہ پا کر اس بار بھی مسلم رہنماوں کو امید ہو چلی تھی کہ جب اردن کے شاہ سے ان کی ملاقات کرائی جا سکتی ہے تو پھر سعودی عرب کے شہزادہ سے تو ان کی ملاقات ضرور کرائی جائے گی۔ کیونکہ، ظاہر ہے اردن کے مقابلہ میں صرف ہندوستان ہی کیا دنیا بھر کے مسلمانوں کو سعودی عرب سے کہیں زیادہ وابستگی ہے اور سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ جیسے مقدس مقامات ہونے کے ناطے وہ اس سے والہانہ عقیدت بھی رکھتے ہیں۔

کیوں نہیں ہو سکی ملاقات؟

نیوز 18 اردو نے جب اس بارے میں کچھ ملی سربراہان سے بات کی تو انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شاید پلوامہ حملہ معاملے کی وجہ سے ملاقات کا یہ پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دورہ ختم کر کے براہ راست ہندوستان نہ آکر سعودی ولی عہد کا واپس ریاض جانا اور پھر ہندوستان آنا، یہ بھی ایک بڑا سبب ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کا پروگرام غالبا اسی دن رکھا گیا تھا جس دن انہیں یہاں پہنچنا تھا اور ریاض جا کر وہاں سے دوبارہ ہندوستان آنے میں کافی وقت لگ گیا جس سے ان کے یہاں قیام کی مدت مختصر ہو گئی۔ جبکہ کچھ نے کہا کہ یہ حکومت کے کلی اختیار میں ہے کہ وہ کسی رہنما سے ملاقات کرائے یا نہ کرائے۔ اردن کے شاہ سے حکومت نے ملاقات کرانی چاہی تو ہو گئی لیکن سعودی ولی عہد سے ملاقات کا پروگرام بنا کر بھی اگر حکومت نے یہ ملاقات نہیں کرائی تو اس کی کچھ بڑی وجہ ضرور ہو سکتی ہے۔
First published: Feb 21, 2019 02:58 PM IST