ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تین طلاق پردرگاہ اعلیٰ حضرت نے ظاہر کی ناراضگی، مسلم پرسنل لاء بورڈ اورخواتین پرسنل لا بورڈ آمنے سامنے

بریلی۔ تین طلاق کے مسئلے پر مرکزی حکومت کے سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامے پر درگاہ اعلی حضرت نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: Oct 08, 2016 07:46 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
تین طلاق پردرگاہ اعلیٰ حضرت نے ظاہر کی ناراضگی، مسلم پرسنل لاء بورڈ اورخواتین پرسنل لا بورڈ  آمنے سامنے
بریلی۔ تین طلاق کے مسئلے پر مرکزی حکومت کے سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامے پر درگاہ اعلی حضرت نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔

بریلی۔ تین طلاق کے مسئلے پر مرکزی حکومت کے سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامے پر درگاہ اعلی حضرت نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔  جماعت رضا ئے مصطفی کے جنرل سکریٹری مفتی شہاب الدین نے اس معاملے پر صاف کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں جو حلف نامہ دیا ہے، وہ شرعی طور پر بالکل غلط ہے۔ اس میں علمائے  کرام کی رائے لینے کے بعد ہی حلف نامہ دیا جانا چاہیے تھا۔


درگاہ نے اس حلف نامے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کو الجھانے کی سازش ہے۔ مرکزی حکومت کو ملک میں غربت، کرپشن اوربے روزگاری پر توجہ دینی چاہئے، نہ کہ مسلمانوں کے شرعی معاملات میں اسے مداخلت کرنے کی ضرورت ہے۔


سپریم کورٹ میں داخل مرکزی حکومت کے حلف نامے پر سخت اعتراض ظاہرکرتے ہوئے بریلی درگاہ اعلی حضرت کی جانب سے  کہا گیا ہے کہ یہ حلف نامہ مسلمانوں میں خلفشار پیدا کرنے کے لئے جان بوجھ کر دیا گیا ہے۔ درگاہ اعلی حضرت اس  کی پرزور مذمت کرتی ہے۔  مفتی شہاب الدین نے مسلکی اعتبار سے چاروں اماموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں تین طلاق دینا قرآن و حدیث سے جائز ہے۔

بہرحال اس حلف نامے کے بعد سے ہی مسلمانوں میں عجیب سی بے چینی ہے۔ مفتیان کرام نے اس معاملے پر مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے حلف نامے پر ایک بار پھر غور کرے۔ کیونکہ  یہ ہندوستان کی ایک بڑی آبادی کا شرعی معاملہ ہے۔


shaista anbar


ادھر سپریم کورٹ میں تین طلاق کے معاملے میں دوسرے فریقوں کے ساتھ آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بور ڈ اور مسلم خواتین پرسنل لا ء بورڈ آمنے سامنے ہوں گے۔  دہلی آئیں مسلم خواتین پرسنل لاء بورڈ کی صدر شائستہ عنبر نے مسلم پرسنل لا ء بورڈ پر خواتین کی بات نہ سننے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ مجبوری میں سپریم کورٹ میں فریق بننے جا رہی ہیں۔


qasim rasool ilyas


تو وہیں دوسری جانب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسلم خواتین پرسنل لاء بورڈ کے تین طلاق معاملے میں فریق بننے کو مسترد کردیا ہے۔  بورڈ کے رکن قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ شرعی معاملہ کا فیصلہ عدالت سے کرانا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ قرآن اور سنت سے ہوگا۔  انہوں نے خواتین قاضی کی تقرری کی بات کو بھی سختی کے ساتھ مسترد کردیا ہے۔

First published: Oct 08, 2016 07:42 PM IST