ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بہار میں قرض اسکیم کے تحت مزدوروں کو لون دینے کا مسلم تنظیموں نے کیا مطالبہ

ملی کونسل کے نائب صدر مولانا انیس الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ اقلیتی نوجوانوں کو قرض دینے کی حکومت کی اسکیم ہے ، اس اسکیم کے تحت باہر سے لوٹے بے روزگار نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کیلئے قرض دینے کا انتظام کیا جائے ۔

  • Share this:
بہار میں قرض اسکیم کے تحت مزدوروں کو لون دینے کا مسلم تنظیموں نے کیا مطالبہ
بہار میں قرض اسکیم کے تحت مزدوروں کو لون دینے کا مسلم تنظیموں نے کیا مطالبہ

بہار میں اقلیتی نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے نام پر محکمہ اقلیتی فلاح کی جانب سے وزیر اعلیٰ روزگار قرض اسکیم چلائی جارہی ہے ۔ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن اس کام کو دیکھتا ہے ، لیکن کروڑوں روپے کارپوریشن کے کھاتے میں پڑا رہ جاتا ہے اور بے روزگار نوجوانوں کو قرض نہیں ملتا ہے ۔ آل انڈیا ملی کونسل اور ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مزدوروں کو وقتی مدد پہنچانے کی بجائے ان کے لئے مستقل مدد کا انتظام کیا جائے ۔ بیرونی ریاست سے مزدوروں کا ایک بڑا قافلہ بہار پہنچا ہے ۔ مختلف ریاستوں سے آئے بہار کے ان مزدوروں کی حالت کتنی خراب ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایک تو روزگار کے نام پر ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے اور اوپر سے جو تھوڑا بہت پیسہ تھا ، وہ لاک ڈاون میں ختم ہوگیا ہے ۔ ان کے سامنے اب بڑا سوال زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانا ہے ، لیکن کس طرح سے وہ کام شروع کرے ، یہ انہیں نہیں معلوم ہے ۔


آل انڈیا ملی کونسل نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے مطالبہ کیا ہے کہ باہر سے آئے مزدوروں کے پاس کام کے نام پر کچھ بھی نہیں ہے ، مزدور ڈرے ہوئے ہیں ، وہ باہر جانا نہیں چاہتے ہیں ، ایسے میں وزیر اعلیٰ کو ان کے روزگار کا انتظام کرنا چاہئے ۔ ملی کونسل نے کہا کہ مزدوروں کے نام پر اب تک صرف سیاست ہوتی رہی ہے ، ان کی مدد کی گئی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی مزدوروں اور چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگے لوگوں کو ضرورت تھی ۔ ایسے میں حکومت اگر مزدوروں کی کوئی مدد کر سکتی ہے تو وہ ان کی بے روزگاری کو دور کرکے ہی کیا جاسکتا ہے ۔


لاک ڈاون کے دوران بہار لوٹے مزدوروں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔ فائل فوٹو ۔
لاک ڈاون کے دوران بہار لوٹے مزدوروں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔ فائل فوٹو ۔


ملی کونسل کے نائب صدر مولانا انیس الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ اقلیتی نوجوانوں کو قرض دینے کی حکومت کی اسکیم ہے ، اس اسکیم کے تحت باہر سے لوٹے بے روزگار نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کیلئے قرض دینے کا انتظام کیا جائے ۔ اس تعلق سے وزیر اعلیٰ کی جانب سے اگر سخت ہدایت جاری کی جائے ، تو اقلیتی نوجوانوں کو قرض دینے کی اسکیم زمین پر لاگو ہوسکتی ہے اور مزدوروں کی صحیح مدد کی جاسکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ اسکیم صرف کاغذ پر ہے ، ضلع کے اقلیتی افسران کو اس منصوبہ کے نفاذ سے کوئی مطلب نہیں رہا ہے ۔ نتیجہ کے طور پر کسی سال قرض اسکیم کی تقسیم نہیں ہوتی ہے ۔ ہر سال سو کروڑ روپے اس منصوبہ کے نام پر حکومت مختص کرتی ہے ، مگر اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا ہے ۔ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ رقم خرچ ہو، اس کا انتظام بھی حکومت کو کرنا چاہئے ۔
First published: May 30, 2020 10:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading