ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

طلاق ثلاثہ آرڈیننس سے پرسنل لابورڈ اورعلمائے کرام نے کیا نااتفاقی کااظہار

مسلم تنظیموں نے مودی حکومت کے آرڈیننس پرناخوشی اوراتفاقی کااظہارکیا ہے۔

  • Share this:
طلاق ثلاثہ آرڈیننس سے پرسنل لابورڈ اورعلمائے کرام نے کیا نااتفاقی کااظہار
طلاق ثلاثہ پر مودی حکومت کے آرڈیننس کی مخالفت۔

نئی دہلی: طلاق ثلاثہ پرآرڈیننس کو لے کرآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، علمائے دیوبند، رضا اکیڈمی اوردیگر مسلم تنظیموں نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کابینہ کے فیصلے پرناخوشی اوراتفاقی کااظہارکیا ہے۔


مختلف تنظیموں اورعلمائے کرام کا کہنا ہے کہ طلاق ثلاثہ (تین طلاق) کے معاملوں کو عدالتوں کے بجائے مسلمان شرعی عدالتوں میں لے جائیں تاکہ حکومت کی نیت اوراس کے کردارسے پردہ اٹھ سکے۔


آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے مرکزی کابینہ کے ذریعہ طلاق ثلاثہ پرآرڈیننس کو منظوری دیئے جانے پرکو سیاسی اسٹنٹ بتایا ہے۔ بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے تین طلاق کوختم کردیا، پھراس آرڈیننس اورقانون کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔


یہ بھی پڑھیں:    تین طلاق دینے پر اب ہو گی سزا، مرکزی کابینہ نے آرڈیننس کو دی منظوری

کمال فاروقی نے کہا کہ حکومت مت کا یہ قدم صرف مسلمانوں کو پریشان کرنے اورووٹوں کے پولرائزیشن کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ہم اس بل کوتفصیلی طورپردیکھیں گے کیونکہ اس میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں، اس کے بعد ہم فیصلہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   طلاق کے معاملہ میں سلفی مسلک سب سے درست، پرسنل لا بورڈ اہلحدیثوں سے رجوع کرے: مولانا وحیدالدین خان

یہ بھی پڑھیں:   تین طلاق کو ’سیاسی فٹبال ‘بنارہی ہے مودی حکومت :کانگریس

 

 
First published: Sep 20, 2018 12:11 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading