உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کا دو روزہ تاریخی اجلاس، مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل پر ہوگا تبادلہ خیال

    لکھنئو میں منعقد ہونے والے مجوزہ اجلاس میں مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    لکھنئو میں منعقد ہونے والے مجوزہ اجلاس میں مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    لکھنئو میں منعقد ہونے والے مجوزہ اجلاس میں مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کا دو روزہ تاریخی اجلاس 23 اور 24اگست کو لکھنئو میں منعقد کیا جائے گا جس میں پورے ملک سے اہم علماء کرام ، پیرانِ طریقت،مفتیان ، سجاد گان اور اہم دانشوروں کی شرکت متوقع ہے۔

    • Share this:
    لکھنئو : مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کا دو روزہ تاریخی اجلاس 23 اور 24اگست کو لکھنئو میں منعقد کیا جائے گا جس میں پورے ملک سے اہم علماء کرام ، پیرانِ طریقت،مفتیان ، سجاد گان اور اہم دانشوروں کی شرکت متوقع ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کے قومی صدر مولانا قاری محمد یوسف عزیزی نے مجوزہ اجلاس کی ضرورت اور اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں ملت اسلامیہ برے دور سے گزر رہی ہے۔ ایک ایسے دور سے جس میں صرف ان کے مذہبی سماجی تعلیمی اور اقتصادی حقوق ہی نہیں بلکہ آئینی ، دستوری اور جمہوری حقوق بھی صلب کئے جارہے ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان حقوق کی بازیابی کے کئے بشمول آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، کسی بھی مذہبی سیاسی اور سماجی جماعت نے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے۔بلکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ تو بابری مجد اور تین طلاق جیسے مسائل پر بھی اپنا کردار ادا نہ کر سکا اسے مسلمانوں کے دیگر مسائل سے تو سروکار ہی نہیں۔

    اس مجموعی صورت حال اور ملت کی زبوں حالی اور بے چارگی کو دیکھتے ہوئے سترہ مارچ دوہزار سترہ کو مسلم پرسنل لا بورڈ آف امڈیا کا قیام عمل میں آیا تھا اور بورڈ کے تمام عہدیداروں اور اراکین نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا خود کو صرف شرعئی مسائل تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے لئے مستحکم کام کرے گا۔ ۲۳ اور ۲۴ اگست کے مجوزہ اجلاس میں مسلمانوں کو درپیش اہم مسائل پر تبادلہءِ خیال کرکے ٹھوس اور جامع حکمت عملی وضع کی جائے گی اس میں آئین کی دفعہ ۳۴۱ سے مذہبی پابندی ہٹانے،سچر کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرانے ، پار لیمنٹ میں تحفظِ ناموسِ رسالت بل پاس کرانے اور مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے جیسے موضوعات وفاقی طور پر زیر غور رہیں گے۔

    مولانا قاری محمد یوسف یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم مسلکی تضاد ونفاق کے خلاف مشترکہ اتحاد میں یقین رکھتے ہیں جو موجودہ عہد کی اہم ضرورت ہے لیکن اہل سنت کا ایک بڑا اور ذمہدار طبقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ ملک کی مختلف سرکردہ اور اہم جماعتوں میں ہمارے خیالات و نظریات کی پاسداری و ترجمانی کرنے والے لوگوں کی مناسب نمائندگی نہیں لہٰذا اس حوالے سے بھی ہم شرکاء سے تبادلہء خیال کریں گے۔

    پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کے قومی ترجمان ریاض الدین کہتے ہیں کہ اب ملک میں اپنی فلاح و بہبود کے لئے ہر محاذ پر آواز اٹھانے اور عملی اقدامات کرنے کی ضرور ہے۔۔ریاض الدین کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کا کوئی اختلاف نہیں تاہم اتنا ضرور ہے کہ جو لوگ بنام شریعت ہی مسلمانوں کے شرعئ مسائل حل نہیں کر پارہے ہیں وہ دیگر معاملات و مسائل کیسے حل کریں گے اسی مقصد کے پیش نظر مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا سرگرم عمل ہے بورڈ کے قومی صدر قاری یوسف نے یہ بھی واضح کیا کہ پرسنل لاء بورڈ آف انڈیا کا اپناکوئی سیاسی مقصد اور ایجنڈا نہیں اور نہ ہم کسی سیاسی جماعت کی حمایت و مخالفت کے باب میں لوگوں پر اپنی مرضی تھوپنے کے قائل ہیں۔۔ اپنے جمہوری حق کے استعمال کے لئے لوگ پوری طرح آزاد ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: