ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

رام مندر کی تعمير پر مسلم پرسنل لا بورڈ کو اعتراض ، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے دیا یہ بڑا بیان

مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کورونا بیماری کے درمیان لاکھوں کی بھیڑ اکٹھی کرنا عوام کو صحت بحران میں مبتلا کرنا ہے ، جو کچھ ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے ۔

  • Share this:
رام مندر کی تعمير پر مسلم پرسنل لا بورڈ کو اعتراض ، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے دیا یہ بڑا بیان
رام مندر کی تعمير پر مسلم پرسنل لا بورڈ کو اعتراض ، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے دیا یہ بڑا بیان

رام مندر کی تعمیر کو لے کر تیاریاں زوروں پر ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی 5 اگست کو ایودھیا جاکر  رام مندر کی بنیاد رکھیں گے ۔ تاہم مسلم پرسنل لا بورڈ نے اعتراض جتایا ہے ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن  ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کورونا بیماری کے درمیان لاکھوں کی بھیڑ اکٹھی کرنا عوام کو صحت بحران میں مبتلا کرنا ہے ، جو کچھ ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے ۔ اس پروگرام کو بعد میں بھی کیا جا سکتا تھا ۔ لیکن سرکار اس  کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے ، اس لیے ایسا کر رہی ہے ۔


قاسم رسول نے مرلی منوہر جوشی اور ایل کے اڈوانی کے سی بی آئی عدالت کے سامنے حال ہی میں دیے گئے بیان کو لے کر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس بنیاد پر کہا جا رہا ہے کہ وہ بابری مسجد انہدام کے موقع پر موجود نہیں تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مرلی منوہر جوشی اور ایل کے ایڈوانی بابری مسجد انہدام کے وقت کچھ دوری پر موجود تھے اور لوگوں کو اکسا رہے تھے ۔ اوما بھارتی بھی وہاں پر موجود تھیں ۔ بابری مسجد کے خلاف تحریک پورے طور پر ایل کے ایڈوانی کی تحریک تھی ۔


قاسم رسول الیاس نے کہا کہ بابری مسجد کی بازیابی کے لیے سالوں تک قانونی لڑائی لڑی ہے ۔  سپریم کورٹ میں جا کر ہماری قانونی لڑائی ختم ہوگئی ، کیوں کہ اس سے آگے کوئی اور راستہ نہیں تھا ۔ عدالت عظمی کے  بعد کوئی اور عدالت نہیں ہے ، اس لیے ہم خاموش ہیں ۔ لیکن یہ کہنا کہ ہم نے بسر و چشم قبول کرلیا یہ کہنا غلط ہے ۔ آج بھی جو کچھ ہو رہا ہے وہ غلط ہو رہا ہے ۔


انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کہتا ہے اور ہمارے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بابری مسجد ایک خالی جگہ پر بنائی گئی تھی ، 1949 تک وہاں پر نماز ہوتی رہی ، مورتیاں رکھا جانا غیر قانونی کام تھا ۔ بابری مسجد کا انہدام بھی غلط غیر قانونی اور غیر دستوری کام تھا ۔ اڈوانی جی کی پوری تحریک یہ تھی کہ تین ہزار مندروں کو توڑ کر مسجدیں بنائی گئیں ، بعد میں وہ کہنے لگے تیس ہزار مندر توڑ کر مسجدیں بنائی گئیں ۔ لیکن ایک بڑے کیس میں وہی ثابت نہیں کر سکے ۔ فیصلے میں ساری ہماری باتیں کہی گئیں ، لیکن فیصلہ ہمارے خلاف دے دیا گیا ، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ۔ سپریم کورٹ کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ عدالت عظمی سپریم ہے ، لیکن غلطی نہیں کرے گا یہ کہنا درست نہیں ، ہمارے نزدیک یہ فیصلہ غلط ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 29, 2020 06:17 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading