ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

طلاق ثلاثہ پر مسلم پرسنل لا بورڈ کو معروضیت سے کام لینا ہوگا : ایڈوکیٹ نازیہ الہی

سپریم کورٹ میں عشرت بانوں کے کیس کی وکالت کررہی ایڈوکیٹ نازیہ الہی خان نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے طلاق ثلاثہ پر جمود توڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلاق کے واقعات میں اضافہ اور مسلم خواتین کی بے بسی اور اس حوالے سے قومی میڈیا میں ہورہی اسلامی شریعہ کی تنقیدوں کے پیش نظر بورڈ مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھ کر کوئی واضح موقف اختیار کرے۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 29, 2016 10:51 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
طلاق ثلاثہ پر مسلم پرسنل لا بورڈ کو معروضیت سے کام لینا ہوگا : ایڈوکیٹ نازیہ الہی
سپریم کورٹ میں عشرت بانوں کے کیس کی وکالت کررہی ایڈوکیٹ نازیہ الہی خان نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے طلاق ثلاثہ پر جمود توڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلاق کے واقعات میں اضافہ اور مسلم خواتین کی بے بسی اور اس حوالے سے قومی میڈیا میں ہورہی اسلامی شریعہ کی تنقیدوں کے پیش نظر بورڈ مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھ کر کوئی واضح موقف اختیار کرے۔

کلکتہ : سپریم کورٹ میں عشرت بانوں کے کیس کی وکالت کررہی ایڈوکیٹ نازیہ الہی خان نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے طلاق ثلاثہ پر جمود توڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلاق کے واقعات میں اضافہ اور مسلم خواتین کی بے بسی اور اس حوالے سے قومی میڈیا میں ہورہی اسلامی شریعہ کی تنقیدوں کے پیش نظر بورڈ مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھ کر کوئی واضح موقف اختیار کرے۔ خیال رہے کہ گزشتہ جمعہ26اگست کو سپریم کورٹ نے مسلم فرقے میں ’طلاق ثلاثہ‘کی روایت کے آئینی جواز کے سلسلے میں مرکزی حکومت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) کو نوٹس جاری کرکے اس معاملے میں اپنا موقف پیش کرنے کو کہا ہے۔

عشرت جہاں نے اپنے وکیل اے کے ویجو اور ایڈوکیٹ نازیہ الہٰی خان کے توسط سے یہ درخواست داخل کرکے کہا ہے کہ اس کے شوہر نے سال 2015 میں دوبئی سے فون کے ذریعے انہیں طلاق دیدیا۔ چیف جسٹس ٹی۔ ایس۔ ٹھاکر کی سربراہی والی سہ رکنی ڈویڑن بنچ نے مرکزی حکومت اور اے آئی ایم پی ایل بی کو نوٹس جاری کرکے اس سلسلے میں پہلے سے عدالت میں زیر التوا درخواستوں کے ساتھ منسلک کردیا ہے۔

درخواست دہندہ نے کہا ہے کہ اس کے شوہر نے دوبئی سے ہی فون کے ذریعے اسے طلاق دیدی اور اس کے چاروں بچوں کو اس سے جبراً چھین لیا۔ اس کے بعد اس کے شوہر نے دوسری شادی بھی کرلی۔ فی الحال وہ اپنی سسرال میں ہی مقیم ہے ، جہاں اس کی جان کو خطرہ ہے۔ درخواست میں اس کے بچوں کو واپس دلانے اور اسے تحفظ فراہم کرانے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی عشرت نے اپنی درخواست میں عدالت سے مسلم پرسنل لا ریپبلکشن ایکٹ 1937 کی دفعہ دو کو غیرقانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست دہندہ نے عدالت سے جہیز واپس دلانے کی اپیل کی ہے۔ ڈویڑن بنچ نے کہا کہ بچوں کو واپس دلانے کے معاملے میں راحت کیلئے درخواست دہندہ کو الگ سے درخواست داخل کرنی چاہیے۔

وکیل ایڈوکیٹ محترمہ نازیہ الہیٰ خان نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ سے کہا کہ وہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں، طلاق ثلاثہ پر قدیم موقف پر ڈٹے رہنے کے بجائے کوئی ایسا حل نکالیں جس سے طلاقہ ثلاثہ کی شکار مسلم خواتین کے مسائل کا حل ہو انہیں کسی بھی طریقہ سے پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا میڈیا میں مسلم پرسنل لا سے متعلق منفی پروپیگنڈے ہوتے ہیں ۔ خواتین سے مصنوعی ہمدری کے پس منظر میں شرعی قانون سے بیزاری کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے ۔

نازیہ الہی خان نے کہا کہ مسلم پرسنل بورڈ کی قیادت کو اس صورت حال کا تدارک کرنے کیلئے جمودی رویہ ختم کرنا ہوگا ورنہ بورڈکا وجود بے وقعت ہو کر رہ جائے گااورمسلم معاشرہ میں خواتین کے درمیان شریعت اور دین بیزاری کے ماحول کو مزید پنپنے کا موقع بھی ملے گا۔
First published: Aug 29, 2016 10:50 PM IST