ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بابری مسجد کا ملبہ حاصل کرنے کے لئے دی جائے گی درخواست، آل انڈیا مسلم پرسنل لابوڑڈ کے موقف کا انتظار

بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفر یاب جیلانی نے کہاہے کہ وہ جلد ہی بابری مسجد کا ملبہ حاصل کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ اس ضمن میں انہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف کا انتظار ہے

  • Share this:
بابری مسجد کا ملبہ حاصل کرنے کے لئے دی جائے گی درخواست، آل انڈیا مسلم پرسنل لابوڑڈ کے موقف کا انتظار
بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفر یاب جیلانی نے کہاہے کہ وہ جلد ہی بابری مسجد کا ملبہ حاصل کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ اس ضمن میں انہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف کا انتظار ہے

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے بنائے گئے ٹرسٹ کے اعلان کے ساتھ ہی کئی اہم سوال ایک بار پھرسامنے آئے ہیں۔ ایک طرف تو وزیر اعظم کے ذریعے رام مندر ٹرسٹ سے متعلقہ اعلان پر بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کی جانب سے خوشی کااظہار کیاجارہا ہے دوسرسی جانب بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مجلس عاملہ کے رکن اور معروف وکیل ظفریاب جیلانی نے باری مسجد کا ملبہ حاصل کرنے کے لئےسپریم کورٹ میں درخواست دینے کا فیصلہ کرلیاہے حالانکہ ملبے  کی حصولیابی سے متعلقہ فیصلے کی بات پہلے بھی کہی گئی تھی اور اس ضمن میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کا موقف جاننے کے لئے بورڈ کے جنرل سکرٹری سے رابطہ بھی کیا تھا اور انہیں تحریری طور پر بھی مطلع کیاتھا تاہم ابھی تک اس باب میں بورڈ کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی ہے صدر اور جنرل سکرٹری کی جانب سے کوئی منفی یا مثبت جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

ظفریاب جیلانی یہ بھی کہتے ہیں کہ۔۔۔اگر بورڈ کی جانب سے اس ضمن میں جلد ہی کوئی جواب نہیں آیا تو بابری مسجد ایکشن کمیٹی اپنے طور پر بابری مسجد کا ملبہ حاصل کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دے گی۔۔۔جیلانی ملبہ حاصل کرنے کے جواز پیش کرتے  ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ شریعت کے احکام کےمطابق مسجد کے ملبے کی بے حرمتی نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی مسجد کے ملبے کو کسی ناپاک جگہ ڈالا یا استعمال کیاجانا چاہئے اسی پیش نظر ملبہ حاصل کرنے کی کوششوں کو یقینی بنایاجارہاہے۔ جس کے لئے معروف وکیلوں سے پہلے ہی مشورہ ہوچکاہے۔۔۔

سنی سنٹرل وقف بورڈ کو مسجد کے نام پر ملنے والی پانچ ایکڑ زمین کے تعلق سے جیلانی نے قانونی نقطہء نظر سے کئی سوال اٹھائے ہیں جیلانی کہتے ہیں کہ اسلامی شریعت اور وقف ایکٹ کے مطابق مسجد کے بدلے میں کوئی بھی جگہ یا دوسری کوئی چیز و عمارت قابل قبول نہیں۔۔لیکن یہ معاملہ ہمیں نہیں بلکہ اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ کو طے کرنا ہے۔۔۔ اتنا ضرور ہے کہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر سبھی اہم  تنظیمیں اور جماعتیں  مشترکہ طور پر یہ فیصلہ پہلے ہی کرچکی ہیں کہ مسجد کے بدلے میں کوئی جگہ نہیں لی جائے گی۔۔۔۔۔۔۔یہاں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ ظفریاب جیلانی نےحکومت اتر پردیش کی اس پیش رفت پر بھی سوالیہ نشان لگائے ہیں جس کے تحت کہاگیا ہے کہ ایودھیہ کے روناہی میں مسجد تعمیر کے لئےپانچ ایکڑ جگہ دی جائے گی۔۔۔۔

ظفریاب جیلانی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت وزیر اعظم کے ذریعے رام مندر ٹرست کے اعلان کامقصد سیاسی مفاد حاصل کرنا ہے۔۔ جیلانی نے مزید کہاکہ بر سر اقتدار حکومت کے ذمہدار لوگ پولرائزیشن کے لئے الیکشن کمیشن کے اصولوں اور ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی کررہے ہیں لیکنافسوس ناک بات یہ ہے کہ الکشن کمیشن حکومت کی مشینری کی طرح کام کررہاہے۔۔۔۔۔اور وزیر اعظم کے ذریعے رام مندر ٹرسٹ کا اس وقت اعلان بھی دہلی الکشن میں فائدہ حاصل کرنے کے لئے کیاگیاہے۔۔۔۔۔طارق قمر لکھنئو

First published: Feb 05, 2020 05:01 PM IST