உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری پر مسلم تنظیموں کے ساتھ سیاسی لیڈران کا سامنے آئے رد عمل

    Youtube Video

    وہیں دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفر السلام خان نے مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کو سیاسی داؤ پیچ قراردیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      اترپردیش اے ٹی ایس نے معروف عالم دین کلیم صدیقی کو تبدیلی مذہب کے الزام میں میرٹھ سے گرفتار کیا ہے۔ یوپی کے اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ جانکاری دی۔ اے ڈی جی کے مطابق مظفر نگر کے فلت گاؤں سے تعلق رکھنے والے مولانا کلیم صدیقی کے مبینہ طور پر عمر گوتم سے روابط تھے۔ فلت کے مشہور مدرسے کے منتظم معروف اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی ایک نجی پروگرام کے سلسلے میں کل رات میرٹھ آئے تھے۔ وہیں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ اب اس معاملے پر مسلم تنظیموں اور سیاسی لیڈران کے رد عمل سامنے آئے ہیں۔
      سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق نے بھی مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے مولانا کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یوپی میں یوگی حکومت مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا کام کررہی ہے۔ وہیں کانگریس لیڈر راشد علوی نے تبدیلی مذہب کے الزام میں گرفتار مولانا کلیم صدیقی کاد فاع کیا۔راشد علوی نے الزام لگایا کہ اترپردیش پولیس کو ایمانداری کےساتھ کام کرنے نہیں دیا جارہا ہے۔
      قابل غور ہے کہ جمعیت علماء ہند مولانا محمود مدنی گروپ تبدیلی مذہب کے الزام میں گرفتار ہوئے مولانا کلیم صدیقی کا کیس لڑے گا۔ جمعیت علماء ہند کی مہاراشٹر شاخ کی جانب سے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ جمیعت کی طرف سے ایڈوکیٹ ابوبکر مولانا کلیم صدیقی کی پیروی کریں گے۔
      وہیں دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفر السلام خان نے مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کو سیاسی داؤ پیچ قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین کے مطابق تمام لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کا حق ہے۔ ظفر السلام نے کہا کہ مولانا پر جو تبدیلی مذہب کے الزامات لگائے گئے ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔

      اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن SIO  کے صدر محمد سلمان نے اسلامک اسکالر کلیم صدیقی (Maulana Kaleem Siddiqui ) کی گرفتاری پر سوال اٹھایا ہے محمد سلمان احمد نے کہا ہے معروف عالم دین مولانا کلیم صدیقی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری ہندوتوا طاقتوں کی جانب سے بین المذاہب مکالموں کو روکنے اور یوپی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے اور کی ایک اور کوشش ہے۔ دوستانہ بین المذاہب مکالموں کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوششوں کے باعث مولانا کلیم صدیقی کو مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی مختلف اقوام کے درمیان موجود عدم اعتماد کی فضا کو دور کرنے اور ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ انہوں نے زبردستی یا کسی خاص غرض سے لوگوں کا تبدیلِ مذہب کرایا. یوپی اے ٹی ایس کے ذریعہ درج کی گئی FIR مکمل طور پر جعلی اور فرضی ہے۔
      ہمارا ماننا ہے کہ مولانا صدیقی کو یوپی حکومت نے انتخابی فوائد کے لئے بلی کا بکرا بنایا ہے۔ ہم اِس طرح کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ملزمین کی فوری رِہائی کی اپیل کرتے ہیں۔ بے گناہ مسلمانوں پر مسلسل ظلم و ستم قابل مذمت ہے اور اسے فوری طور پر روکا جائے۔ اس طرح کی کارروائیاں صرف بدامنی کی فضا پیدا کریں گی اور ملک کے سماجی تانے بانے کے لئے سراسر نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ اپنی پسند کے کسی بھی مذہب پر عمل یا اسکی تبلیغ کا حق ہمارے آئین میں درج ہے۔ یوپی کا تبدیلی مذہب مخالف قانون ان آزادیوں کو مجروح کرتا ہے اورعام لوگوں کو ہراساں کرنے کا آلہ کار بن گیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ معزز عدالتیں آئینی اقدار کی پاسداری کریں گی اور اس طرح کے قانونوں پر روک لگا ئے۔

      واضح ہو کہ تبدیلی مذہب کے الزام میں میرٹھ سے معروف اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کو اترپردیش اے ٹی ایس UP ATS نے گرفتار کیا ہے۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس نظم ونسق پرشانت کمار نے بدھ کو میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ بیرون ممالک فنڈنگ کے تحت ملک میں مبینہ تبدیلی مذہب کرانے والے گروہ کا پولیس نے گزشتہ دنوں انکشاف کیا تھا اور 20 جون کو اس سلسلے میں دس افرا د کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں مولانا کلیم صدیقی کو گرفتار کیا گیا ہے۔

      انہوں نے دعوی کیا کہ جانچ میں یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ مولانا کلیم صدیقی مبینہ تبدیلی مذہب کے کام میں ملوث ہیں اور مختلف طرح کے تعلیمی، سماجی اداروں کی آڑ میں تبدیلی مذہب کا کام ملک گیر سطح پر کیا جارہا ہے ۔ اس کے لئے بیرون ممالک سے فنڈنگ کی جارہی ہے۔ اس کام میں ملک کے کئی معروف لوگ اور ادارے شامل ہیں ۔ جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مولانا ہندوستان کا سب سے بڑا تبدیلی مذہب سنڈیکیٹ چلاتے ہیں اور غیر مسلموں کو گمراہ کر کے اور ڈرا دھمکا کر ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں ۔

      پرشانت کمار نے بتایا کہ 20 جون کو مبینہ تبدیلی مذہب گروہ چلانے والے لوگ گرفتار کئے گئے تھے ۔ جانچ میں پتہ چلا تھا کہ اس معاملے میں گرفتار عمر گوتم اور ان کے ساتھیوں کو برٹش کی ایک تنظیم سے تقریبا 75 کروڑ روپے کی فنڈنگ کی گئی تھی ، جس کے خرچ کی تفصیلات ملزمین نہیں دے پائے ۔ مولانا سے پہلے گرفتار دس میں سے چھ لوگوں کے خلاف مختلف تواریخ میں چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے جبکہ چار کے خلاف جانچ چل رہی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: