உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلمان ایک مجلس کی تین طلاق کی وبا کو ختم کرنے کا عزم کریں : اندریش کمار

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    نئی دہلی۔ مسلم راشٹریہ منچ کے رہنما اندریش کمار نے کہا کہ مسلمان ایک مجلس کی تین طلاق کی وبا کو ختم کرنے کا عزم کریں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ مسلم راشٹریہ منچ کے رہنما اندریش کمار نے کہا کہ مسلمان ایک مجلس کی تین طلاق کی وبا کو ختم کرنے کا عزم کریں۔ دہلی میں منعقدہ ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے  اندریش کمار نے کہا کہ طلاق وہ امر ہے جسے قرآن اور حدیث میں اللہ کے سامنے سب سے نا پسندیدہ کام بتایا گیا ہے۔ قرآن اور حدیث میں طلاق کے مسئلے پر آتا ہے کہ جب کسی گھرانے میں طلاق کی نوبت آتی ہے تو اس فعل سے عرش خدا ہل جاتا ہے۔ اس میٹنگ میں جس بات پر خصوصی طور پر بحث ہوئی وہ ایک مجلس میں تین طلاق کا مسئلہ تھا۔  اندریش کمار نے کہا کہ جب کسی گھرانے میں طلاق کی نوبت آتی ہے تو اس فعل سے عرش خدا ہل جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ طلاق وہ امر ہے جس سے قدرت کا نظام درہم برہم ہو جاتاہے۔ نیز طلاق کو ایک گناہ بھی بتایا گیا ہے۔ اس لئے ہم تمام لوگوں کو چاہئے کہ طلاق نہ ہو تو زیادہ بہتر ہے ۔ اور اگر بغیر طلاق کے گزارہ ہونے کے لائق نہیں ہے تو طلاق کا نفاذ قرآن اور حدیث کی روشنی میں ہونا چاہئے۔ لہذا معلوم ہوا کہ ایک مجلس میں تین طلاق یعنی طلاق طلاق طلاق کہہ کر بیوی بچوں کو روڈ پر کردینا قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں ہے تو مسلمان اس کا نفاذ اپنے معاشرے اور گھرانے میں کس طرح جائز مانتا ہے۔


       اندریش کمار نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جب طلاق طلاق طلاق قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں ہے تو ایک مجلس کی تین طلاق ناجائز اور قبیح جرم ہے ۔اس لئے مسلم راشٹریہ منچ ایسے طلاق سے اختلاف رکھتا ہے۔ ایک مجلس کی تین طلاق نا انصافی اور عورتوں پر ظلم ہے جسے غیر انسانی عمل بھی کہا جانا چاہئے۔ مسلم راشٹریہ منچ مسلم پرسنل لاءبورڈ سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو گمراہ نہ کرے۔ اور اسی کے ساتھ ساتھ اس کو اسلام میں دخل کہہ کر ہندستان کی ایکتا اور بھائی چارے کو برباد بھی نہ کرے۔نیشنل لاءیعنی راشٹریہ سمان قانون یہ کسی بھی مذہب کے اندر کسی طرح کا دخل ہر گز نہیں ہے۔ اور نہ ہی کسی کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کوئی کسی کے مذہب میں دخل اندازی کرے۔ ہمارے ملک ہندستان میں تیس پینتیس طرح کے مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں ۔ ان میں سے کسی بھی مذہب کے اندر نیشنل کامن لاءدخل دینے کے حق میں نہیں ہے۔ نیشنل کامن لاءکو کچھ لوگ کامن سول کوڈ کے نام سے بھی جانتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم راشٹریہ منچ ملک کے تمام علماء، ماہرین ، دانشوران اور رہنماؤں سے اپیل کرتا ہے کہ لاکھوں لاکھ مسلم خواتین اور ان کے در بدر بھٹکتے بچوں کیلئے آگے آئیں اور ان کے حق میں بہتر سے بہتر اقدامات کریں۔ نیز مسلم راشٹریہ منچ تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہے کہ اپنے اپنے معاشروں میں طلاق نامی گناہ کو کم کرنے کیلئے آگے آئیں تاکہ اس بد نما داغ سے معاشرے کو چھٹکارہ دلایا جا سکے۔


       اندریش کمار نے کہا کہ طلاق نامی بد نما داغ کو دھونے کیلئے مسلم راشٹریہ منچ کے دیش بھر میں 935 اضلاع میں پھیلے ہوئے کارکنان مہم چلائیں گے۔ جلسے جلوس کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ دستخطی مہم بھی چلائی جائے گی۔ ہماری تمام مسلم بھائیوں اور بہنوں سے اپیل ہے کہ طلاق جیسی برائی کے خاتمے کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ ملک کے اتحاد و سالمیت کی حفاظت کی جا سکے۔ برادران آگے آئیں تاکہ در ۔دربھٹکتی ہوئی عورت اور اس کے بچے بچیوں کی عزت وناموس کا تحفظ کیا جا سکے۔ اسی طرح ہم 17دسمبر 2016سے لے کر 17دسمبر 2017تک پورے ملک میں وطن کیلئے قربان ہونے شہیدوں کیلئے خراج عقیدت تقریب کا اہتمام کریں گے۔ نیشنل ترانے کا جگہ جگہ پر اجتماعی انعقاد کیا جائے گا۔اور قوم وملک کیلئے مر مٹنے والے شہیدوں کی کہانیاں اسکولوں اور مدرسوں میں سنائے جائیں گے ۔نیز قومی ایکتا سے متعلق کتابچے اور پمفلیٹ بھی تقسیم کئے جائیں گے۔میٹنگ میں وطن کیلئے دہشت گردانہ حملوں میں شہید فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔


      واضح رہے کہ مسلم راشٹریہ منچ نے دہلی پہاڑ گنج میں واقع سنگت بھون میں ملک بھر کے عہدیداران کی ایک میٹنگ کا انعقا دکیا جس کی صدارت مسلم راشٹریہ منچ کے کنوینر محمد افضال نے کی۔ مسٹر اندریش کمارنے میٹنگ کی رہنمائی کی۔ نیز مسٹر گریش جویال قومی تنظیمی کنوینر مسلم راشٹریہ منچ نے بھی شرکت کی ۔

      First published: