உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر کے نائب مفتی ناصر الاسلام کے متنازع بیان کی چوطرفہ تنقید ، علما نے مضحکہ خیز قرار دیا

    جموں کشمیرسے تعلق رکھنے والے مفتی ناصرالاسلام کے متنازع بیان کی چوطرفہ تنقید کی جارہی ہے ۔ مفتی ناصر کہا تھا کہ ہندوستان کےمسلمانوں کو ایک الگ ملک کا مطالبہ کرنا چاہئے۔

    جموں کشمیرسے تعلق رکھنے والے مفتی ناصرالاسلام کے متنازع بیان کی چوطرفہ تنقید کی جارہی ہے ۔ مفتی ناصر کہا تھا کہ ہندوستان کےمسلمانوں کو ایک الگ ملک کا مطالبہ کرنا چاہئے۔

    جموں کشمیرسے تعلق رکھنے والے مفتی ناصرالاسلام کے متنازع بیان کی چوطرفہ تنقید کی جارہی ہے ۔ مفتی ناصر کہا تھا کہ ہندوستان کےمسلمانوں کو ایک الگ ملک کا مطالبہ کرنا چاہئے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      لکھنؤ : جموں کشمیرسے تعلق رکھنے والے مفتی ناصرالاسلام کے متنازع بیان کی چوطرفہ تنقید کی جارہی ہے ۔ مفتی ناصر کہا تھا کہ ہندوستان کےمسلمانوں کو ایک الگ ملک کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ مسلم دانشوران اور علما نے اس بیان کو افسوسناک اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے ۔
      بنگلورو میں جامع مسجد کے خطیب وامام مولانا مقصودعمران رشادی نے کہا کہ مفتی ناصرالاسلام کا بیان غیرمناسب اورانتشار پیدا کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا ہندوستان سبھی مذاہب کا گہوارہ ہے، اس طرح کے بیانات سے ہندوستان کے مسلمان گمراہ نہیں ہوں گے۔
      معروف عالم دین مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ ہندوستان ہمارا ملک ہے، ہمارا گھر، ہماری زمین ہے، اس ملک کو بنانے، سنوارنے میں ہم نے اپنا سب کچھ قربان کیا ہے اور اب اس کو بچانے اور سلامت رکھنے کے لئے بھی ہم سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔
      مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ ناصرالاسلام کواپنا بیان واپس لینا چاہئے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ارباب اقتدار اور ذمہ دار لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس انداز کے بیانات پرغورکریں کہ آخر لوگوں کو یہ بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔
      First published: