ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ نگر: کپکپا دینے والی سردی میں بھی نہیں کم ہورہا ہے خواتین کا حوصلہ، شاہین باغ میں خواتین کا احتجاج جاری

ایسے حالات میں جب انتہائی سخت سردی میں لوگوں کا گھروں سےنکلنا مشکل ہورہا ہو، شاہین باغ کی خواتین مسلسل 14 روز سے دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ دن ورات وہ اپنے حقوق کی آواز کے ساتھ یہاں سے نہ ہٹنے کے اپنے موقف پرقائم ہیں۔

  • Share this:
جامعہ نگر: کپکپا دینے والی سردی میں بھی نہیں کم ہورہا ہے خواتین کا حوصلہ، شاہین باغ میں خواتین کا احتجاج جاری
شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے، اس میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہیں۔

نئی دہلی: شمالی ہندوستان سمیت ملک بھرمیں کپکپا دینےوالی سردی کےدرمیان بھی شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کا سلسلہ رکنےکا نام نہیں لے رہا ہے۔ اسی ضمن میں جامعہ نگرکےشاہین باغ علاقےمیں انتہائی سرد موسم میں بھی خواتین کے جذبے اورحوصلے میں کسی طرح کی کمی نہیں آرہی ہےاورسینکڑوں کی تعداد میں خواتین انتہائی سرد موسم میں بھی رات میں شاہین باغ واقع ہائی وے پربیٹھ کراحتجاج کررہی ہیں۔ ایسے حالات میں جب لوگوں کا گھرسےنکلنا مشکل ہورہا ہو، ایسےحالات میں خواتین کا احتجاج پر بیٹھنا ان کی سخت ناراضگی کوظاہرکرتا ہے۔


واضح رہےکہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مسلم خواتین کی ناراضگی کا سلسلہ گزشتہ 14 راتوں سےجاری ہے۔ تاہم جامعہ نگرکی خواتین کی ناراضگی میں اس وقت اضافہ ہوگیا، جب دہلی پولیس کے ذریعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں اندرگھس کرطلباء کے خلاف کارروائی کی گئی اورلائبریری میں آنسوگیس کےگولے داغےگئے۔ اس کے بعد شاہین باغ میں اپنی نوعیت کا مختلف احتجاج شروع کیا گیا، جہاں پرخواتین گھروں سے باہرنکل کراحتجاج  پربیٹھ گئیں۔ شاہین باغ میں ہونے والے احتجاج میں مختلف کلچرل پروگرام اورشاعری کے ذریعہ لوگ اپنی بات رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی یہاں سےآزادی کےنعرے اور اپنے حقوق کےنعرے بھی لگائے جارہے ہیں۔


شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں مردو خواتین کے ساتھ بچے بھی شامل ہیں۔


مظاہرین نے سریتا وہار- نوئیڈوا ہائی وے پرایک عارضی خیمہ قائم کرلیا ہے اوروہ دن ورات یہاں بیٹھے رہتے ہیں۔ یہاں ایک اسٹیج بھی بنایا گیا ہے، جس پردن ورات مقامی لوگ موجود رہتےہیں۔ اس احتجاج میں شامل ہونے والوں کے کھانے پانی اورچائےکا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔  100 لو گوں کا رضاکارانہ گروپ ہے، جو باری باری چائے، کھانا، پانی اوردوسری چیزوں کا انتظام کرتا ہے۔ ساتھ ہی خواتین کےتحفظ کےلئے بھی ایک گروپ راتوں کوموجود رہتا ہےاوراپنی ذمہ داری کوانجام دیتا ہے۔

سخت سردی کے باوجود خواتین احتجاج ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔


واضح رہےکہ قومی راجدھانی دہلی میں سردی نےآج 118 سال کا ریکارڈ توڑدیا ہے۔  محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتہ کی صبح 8.30 بجے دہلی کے لودھی روڈ علاقہ میں درجہ حرارت ابھی تک کا سب سے کم 1.7 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ وہیں صفدرجنگ انکلیو میں 2.4، پالم میں 3.1 اورآیا نگرمیں درجہ حرارت 1.9 ڈگری سیلیس ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے پہلےآج صبح 6 بج کر10 منٹ پردہلی میں درجہ حرارت 2.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ دہلی میں سردی کا عالم یہ ہےکہ لوگوں کوآگ کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ انسان کے ساتھ ساتھ جانوربھی اس کڑاکےکی ٹھنڈ سے پریشان ہیں، لیکن جامعہ نگر اورشاہین باغ کی خواتین کے حوصلے میں کسی طرح سے کوئی کمی نہیں آرہی ہے۔
First published: Dec 28, 2019 10:02 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading