اپنا ضلع منتخب کریں۔

    Bulli Bai App Case: دہلی پولیس کی بڑی کارروائی، آسام سے گرفتار ہوا اہم ملزم

    اسپیشل سیل نے بتایا کہ یہ کارروائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز یونٹ (IFSO) نے کی ہے۔ پولیس ملزم کو لیکر دوپہر 3.30 بجے دہلی ایئرپورٹ پہنچ رہی ہے۔

    اسپیشل سیل نے بتایا کہ یہ کارروائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز یونٹ (IFSO) نے کی ہے۔ پولیس ملزم کو لیکر دوپہر 3.30 بجے دہلی ایئرپورٹ پہنچ رہی ہے۔

    اسپیشل سیل نے بتایا کہ یہ کارروائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز یونٹ (IFSO) نے کی ہے۔ پولیس ملزم کو لیکر دوپہر 3.30 بجے دہلی ایئرپورٹ پہنچ رہی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی پولیس نے بلی بائی موبائل ایپ Bulli Bai App سے متعلق معاملے پر بڑی کارروائی کی ہے۔ جمعرات کو دہلی پولیس نے آسام سے ایک اہم ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ اسپیشل سیل نے بتایا کہ یہ کارروائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز یونٹ (IFSO) نے کی ہے۔ پولیس ملزم کو لیکر دوپہر 3.30 بجے دہلی ایئرپورٹ پہنچ رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ایپ میں ملزمان مسلم خواتین  Muslim women کو توہین آمیز انداز میں دکھا رہے تھے۔
      اسپیشل سیل نے بتایا کہ گٹ ہب GitHub پر بدمعاشی کرنے والے اور اس ایپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ ہولڈر کو IFSO نے گرفتار کر لیا ہے۔ ممبئی پولیس نے بدھ کے روز کہا کہ 'بلّی بائی' ایپ کے سلسلے میں اب تک تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو مسلم خواتین کی تصویریں آن لائن پوسٹ کرکے انہیں بدنام کیا جا رہا تھا۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ ملزموں نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اپنے ٹوئٹر ہینڈل میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ناموں کا استعمال کیا تھا اور ملزموں کی شناخت نہیں ہوسکی۔

      اس سلسلے میں ایک سینئر پولیس افسر نے یہاں بتایا کہ سٹی پولیس کے سائبر یونٹ کے ذریعہ اتراکھنڈ سے گرفتار 18 سالہ خاتون شویتا سنگھ اہم ملزم ہے، جس نے ایپ کا ٹوئٹر ہینڈل بنایا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شویتا سنگھ نے 12ویں جماعت کا امتحان پاس کیا ہے اور وہ انجینئرنگ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ پہلے دن میں، ممبئی پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے صحافیوں کو بتایا کہ اس کیس میں کچھ اور لوگوں کے ملوث ہونے کا اندیشہ ہے۔

      وہیں بلی بائی ایپ تنازع میں ملز کے طور پر اُودھم نگر ضلع سے گرفتار کی گئی شویتا سنگھ کے دفاع میں اُس کی چھوٹی بہن سامنے آئی ہے۔ ممبئی پولیس نے شویتا کو گرفتار کرکے تنازع میں گھرے ایپ کا ماسٹر مائنڈ بتایا تھا، لیکن اُس کی نابالغ بہن کا کہنا ہے کہ شویتا پر جب تک الزام ثابت نہ ہوجائیں، اُسے مجرم نہیں کہا جانا چاہیے۔ اپنے فیملی اور بہن کے بارے میں شویتا کی بہن نے نیوز18 سے خاص بات چیت کی۔ اس کے ساتھ ہی اس کیس یں کوٹ دوار سے گرفتار کیے گئے ایک اور ملزم 21 سالہ اسٹوڈنٹ کے بارے میں مل رہی تفصیل میں کہا جارہا ہے کہ وہ ایک آرمی کے جوان کا بیٹا ہے۔

      نیوز18 کی نمائندہ چندن بنگاری کی رپورٹ کے مطابق اب شویتا کی بہن نے کہا ہے کہ اُس کی بہن بے قصور ہے کیونکہ وہ کچھ ہی دن پہلے بالغ ہوئی ہے اور اُس میں زیادہ سمجھ بھی نہیں ہے۔ بہن نے یہ بھی کہا ہے کہ اُں کے افراد خاندان کا گزارا حکومت اور آنجہانی والد کی کمپنی کی طرف سے مل رہے کچھ پیسوں سے چلتا ہے۔ والدین کی موت کے بعد ابھی وہ دکھ سے باہر نہیں آئے تھے کہ یہ ایک اور بڑا واقعہ ہوگیا۔

      ممبئی پولیس نے اُتراکھنڈ سے دوسری اور اس کیس میں تیسری گرفتاری پوڑی ضلع کے کوٹ دوار سے کرتے ہوئے 21 سال کے ایک اسٹوڈنٹ کو گرفتار کیا، جس کا نام مینک راوت بتایا گیا ہے۔ کوٹ دوار کی اے ایس پی منیش جوشی کے حوالے سے خبروں میں کہا گیا ہے کہ میانک دلی کے ذاکر حسین کالج میں بی ایس سی کا اسٹوڈنٹ ہے۔ وہ اپنے آبائی شہر آیا ہوا تھا اور راجندر نگر کالونی سے اُسے گرفتار کیا گیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: