ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

طلاق ثلاثہ بل کے خلاف مسلم خواتین کا احتجاج ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے لئے درد سر

طلاق ثلاثہ معاملے میں پورے ملک میں خواتین کے سڑکوں پر اترنے کے بعد سے لے کر یہ معاملہ انتہائی سنگین ہو گیا ہے۔

  • Share this:
طلاق ثلاثہ بل کے خلاف مسلم خواتین کا احتجاج ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے لئے درد سر
تصویر: اے ایف پی

نئی دہلی۔ طلاق ثلاثہ معاملے میں پورے ملک میں  خواتین کے سڑکوں پر اترنے کے بعد سے لے کر یہ معاملہ انتہائی سنگین ہو گیا ہے۔ ایک طرف مسلم پرسنل لاء بورڈ نے 4 اپریل کو دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کے لئے خواتین سے بڑی تعداد میں جمع ہونے کی اپیل کی ہے تاکہ مرکزی حکومت کو طلاق ثلاثہ سے متعلق بل کو منظوری دینے سے روکا جا سکے۔ وہیں دوسری طرف خواتین کو سڑکوں پر لانے کے لئے مسلم پرسنل لا بورڈ کے خلاف بھی تنقید کا آغاز ہوگیا ہے۔ مسلم مذہبی رہنماؤں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر مناسب قرار دیا ہے۔ مذہبی رہنماوں کے اعتراض کے بعد بورڈ بیک فٹ پر ہے اور اب اس نے 4 مارچ کے احتجاجی مظاہرہ کے بعد خواتین کے سڑکوں پر نہیں اترنے کا فرمان جاری کیا ہے کہ چار اپریل کے بعد خواتین سڑکوں پر نہیں اتریں گی اور یہ احتجاجی مظاہرہ بند کردیاجائے گا۔


طلاق  ثلاثہ کا معاملہ کیا ہے  ؟


مرکز کی مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد تین طلاق ثلاثہ سے متعلق بل لانے کے بعد سے مسلم پرسنل لا بورڈ اور مرکزی حکومت کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔ تین طلاق کو لے کر مرکزی سرکار نے لوک سبھا میں ایک بل منظور کیا ہے، جس میں  تین طلاق دینے والے مردوں پر سخت کارروائی کئے جانے کی تجویز ہے۔ حالانکہ لوک سبھا میں یہ بل منظور ہونے کے بعد ابھی راجیہ سبھا میں زیر التوا ہے۔


خواتین کے احتجاج کی بات کہاں سے ہوئی؟

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ مسلم خواتین کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور مرد جب چاہتے ہیں، ان کو تین طلاق دے دیتے ہیں، یہ عورتوں کے ساتھ ناانصافی ہے، اس لئے حکومت مسلم خواتین کو ان کا حق دے کر انہیں ان کا حقوق فراہم کرنا چاہتی ہے۔
دوسری طرف مسلم پرسنل لا بورڈ حکومت کے اس فیصلے کو شریعت میں مداخلت تسلیم  کرتا  ہے اور حکومت کے فیصلے کی مخالفت کر رہا ہے۔ بورڈ نے اس کے لئے خواتین کو آگے بڑھایا تاکہ سرکار پر دباؤ بنایاجاسکے، اس کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں نے خواتین نے جم کر احتجاج کیا۔

طلاق ثلاثہ پر مختلف مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

طلاق کے معاملے  میں بھی خواتین کو اسلام میں مکمل حقوق دیئے گئے ہیں، لیکن اس مسئلے میں مسلمانوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جماعت اہل حدیث اور شیعہ مسلک میں ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ احناف ایک مجلس میں تین طلاق کو تین تصور کرتے ہیں۔ معروف شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد نے بورڈ سے اجتہاد کرنے کی اپیل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بورڈ کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہئے۔
وہیں، جماعت اہل حدیث کے نوجوان رہنما اور مرکزابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے کہا ہے کہ بورڈ نے خواتین کو سڑکوں پر لا کر اسلام کی خلاف ورزی کی ہے۔ قرآن و حدیث میں واضح ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک تسلیم کی جائے گی اور تین طلاق تین ماہ میں دی جائے گی۔ مردوں کی طرح خواتین کو بھی خلع کا اختیار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بورڈ اب مسلم پرسنل لا نہ رہ کر حنفی بورڈ بن گیا ہے، کیونکہ وہاں صرف ایک مسلک کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم پرسنل لا میں عدالت اور حکومت کو مداخلت کا حق نہیں ہے، تاہم بورڈ نے اگر صحیح طریقے سے اس معاملے کی پیروی کی ہوتی تو اس بات کی نوبت ہی نہیں آتی۔

مولانا رحمانی  نے خواتین کے سڑکوں پر اترنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف خواتین کو مسجد میں نماز پڑھنے کا حق نہیں دیا جاتا ہے اوراب ہم نے انہیں سڑکوں پر اتار دیا ہے، جو قطعی مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلفی مسلک میں سڑکوں پر اتر کراحتجاج کرنے کی گنجائش نہیں ہے بلکہ اگر کسی معاملے کو لے کر کچھ اختلاف ہے تو سرکردہ شخصیات کے ایک وفد کو متعلقہ عہدیداران سے ملاقات کرکے میمورنڈم سونپ کر اعتراض درج کرانا چاہئے۔ بورڈ کو منظم طریقے سے قانونی اقدامات کرنے چاہئیں۔

وہیں، دوسری طرف، شاہجہانی جامع مسجد کے امام مولانا سید احمد بخاری نے نیوز18سے بات کرتے ہوئے کچھ ارکان پر بورڈ کو ہائی جیک کرنے کا الزام لگایا اور احتجاجی مظاہرہ کو اسلام مخالف قرار دیا اور بورڈ کو اس کا حل سڑکوں پر تلاش کرنے کے بجائے اسلام میں تلاش کرنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کو جماعت اہل حدیث اور اہل تشیع سے رجوع کرناچاہئے تاکہ یہ مسئلہ قرآن وسنت کی روشنی میں حل کیاجا سکے۔
دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ خواتین کو اپنے حق کے لئے آگے آنا چاہئے۔ اسلام اس سے بالکل نہیں روکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو تمام معاملات میں آگے رہنے کا اختیار ہے اور وہ اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرتی ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ معروف بریلوی مسلک کے مذہبی رہنما مفتی مكرم احمد نے کہا کہ طلاق ثلاثہ قانون خواتین کا ہی معاملہ ہے، لہٰذا خواتین سڑکوں پر ہیں، لیکن بورڈ کو طلاق روکنے کے لئے مہم چلانی چاہئے کیونکہ طلاق جاہل لوگ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بورڈ نے اپنی ذمہ داری صحیح طریقے سے نہیں نبھائی ہے، اس لئے بورڈ کو طلاق کے معاملے میں بھی لوگوں کو بیدار کرنا چاہئے۔ جماعت اسلامی کے جنرل سکریٹری انجینئر سلیم احمد نے کہا کہ تمام مسلک کے رہنمائوں نے مل کر احتجاج کرنے کا یہ فیصلہ کیا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہم سب بورڈ کے فیصلوں کے ساتھ ہیں۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کا اس معاملے پر اسٹینڈ

مسلم پرسنل لا بورڈ کا کہنا ہے کہ حکومت نے طلاق ثلاثہ بل لاکر آئین اور مسلم پرسنل لا   میں  مداخلت کی ہے۔ مسلم پرسنل لا ہمیں اپنے مذہب کی آزادی دیتا ہے، لیکن حکومت نے  مسلم خواتین کو گمراہ کرتے ہوئے خود کو ان کا مسیحا بن کر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ حکومت کے قانون سے سب سے زیادہ خواتین ہی متاثر ہوں گی، اس لئے ہم سرکار کے خلاف تحریک چلاتے رہے ہیں۔تاہم بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چار اپریل کے بعد احتجاجی مظاہرہ بند کردیاجائے گا۔ انہوں نے پورے ملک میں ہوئے احتجاجی مظاہرہ کےلئے خواتین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب  خواتین کی  یہ آوازنہیں دبے گی اور بورڈ کو اپنی تحریک میں کامیابی ملے گی۔ بورڈ کے رکن  مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے کہا کہ خواتین کے خلاف حکومت  قانون بنا رہی ہے، اس لئےر خواتین اپنے حق کے لئے سڑکوں پر احتجاج کررہی ہیں۔ یہاں اختلاف کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ تمام مسلک کے علما اور ماہرین بورڈ کے رکن ہیں، اس لئے ہمیں سب کا تعاون بھی حاصل ہے۔

رام لیلا میدان کے احتجاج کے بعد کیاہوگا؟

سوال یہ ہے کہ چار اپریل کو رام لیلامیدان میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ کے بعد کیا ہوگا۔ کیا حکومت اپنا فیصلہ واپس لے گی یا اس مسئلے پر بورڈ کوئی نئی حکمت عمل تیار کرے گی۔ بورڈ کے اب تک کے احتجاج سے تو حکومت پر کوئی دباؤ بنتا نظر نہیں آرہا ہے۔ اگر اس کے بعد بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو پھر حکومت اور بورڈ کے درمیان تلعقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوگی۔

نثار احمد خان کی رپورٹ
First published: Apr 03, 2018 08:04 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading