உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش : طلاق ثلاثہ بل کے خلاف مسلم خو اتین کا زبردست احتجاج ، بتایا شریعت میں واضح مداخلت

    لکھنو میں ٹیلے والی مسجد کے الوداع گراؤنڈ پر ہزاروں مسلم خو اتین نے طلاق ثلاثہ بل کے خلاف احتجاج کیا: فائل فوٹو۔

    لکھنو میں ٹیلے والی مسجد کے الوداع گراؤنڈ پر ہزاروں مسلم خو اتین نے طلاق ثلاثہ بل کے خلاف احتجاج کیا: فائل فوٹو۔

    اترپردیش کی راجدھانی مین آج ٹیلے والی مسجد کے الوداع گراؤنڈ پر ہزاروں مسلم خو اتین نے طلاق ثلاثہ اور اسلامی شریعت میں مداخلت کے خلاف پر امن احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      لکھنو : اترپردیش کی راجدھانی مین آج ٹیلے والی مسجد کے الوداع گراؤنڈ پر ہزاروں مسلم خو اتین نے طلاق ثلاثہ اور اسلامی شریعت میں مداخلت کے خلاف پر امن احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا۔ یہ احتجا جی مظاہرہ آل ا ندیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہدایت پر تحفظ شریعت مہم لکھنوکے زیراہتمام، مختلف مسلم تنظیموں کی جانب سے کیا گیا تھا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی خو اتین ونگ کی کنوینر داکٹر اسما زہرہ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کی کہ طلاق ثلاثہ سے متعلق بل راجیہ سبھاسے واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ملک کے دستور اور خواتین کے حقوق کے خلاف ہے۔
      ڈاکٹر اسما نے کہا کہ یہ شریعت میں واضح مداخلت ہے ،اور ہم اس کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت پر عمل کرنے میں ہمارا تحفط اور وقار ہے۔ ہم اس سے کسی بھی حال میں دست بردار نہیں ہو سکتے۔ ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ ہمارے ملک کا دستور بھی ہمیں اپنے مذہب اور اپنی شریعت پر عمل کی آزادی فراہم کرتاہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کیسے حق پہنچتا ہے کہ ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کی راہ ہموار کرے۔
      داکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ مسلم ویمنس پروٹکشن آف رائٹس ان میرج ایکٹ2018 لوک سبھا میں نہایت جلد بازی اور سیاسی مفاد کے لئے منظور کرادیا گیا۔ اس بل کی تیا ری میں مسلم پرسنل لا بورڈ یا کسی بھی مستند عالم یا خواتین کی ممتاز تنظیم سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ طلاق ثلا ثہ کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایسے تکلیف دہ بل کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ بل ملک کے آئین ، دستور سپریم کورٹ اور خواتین کے مفادات کے خلاف ہے۔
      انہوں نے کہا ہم حکومت کو آگاہ کرتے ہیں کہ مسلم خواتین کے تحفظ کے نام پر اسلا می شریعت میں مداخلت ہر گز نہ کرے اور ہماری مذہبی آزادی و اختیارات کو سلب کرنے کی کوشش قطعی نہ کرے۔ مظاہرین نے صدر جمہوریہ کے نام ایک میمورنڈم ضلع انتظامیہ کے توسط سے ارسال کیا۔اس موقع پر بورڈ کی رکن ممدوحہ ماجد، نگہت پروین خان،آمنہ رضوان موناتی ، شگفتہ ملک صبا تبسم، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، مولانا عتیق بستوی، ظفریاب جیلانی ایڈوکیٹ وغیرہ بھی موجود تھے۔
      First published: