ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

صدر کے خطاب سے اسلامی اصولوں پر حملے والا حصہ حذف کیا جائے: فیڈریشن

مسلم خواتین کی بہبود کی غیر سرکاری تنظیموں کے فیڈریشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر جمہوریہ ہند کے خطاب میں مسلم خواتین کے تعلق سے اظہار خیال کو اسلام کے اصولوں پر راست حملہ قرار دیتے ہوئے حکومت کے اپروچ کی سخت مذمت کی ہے اور صدر سے خطبے کے متعلقہ حصے کو حذف کرانے کی درخواست کی ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 30, 2018 08:44 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
صدر کے خطاب سے اسلامی اصولوں پر حملے والا حصہ حذف کیا جائے: فیڈریشن
آج یہاں پریس کلب میں 29 غیر سرکاری تنظیموں کے فیڈریشن نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ ملک کی دوسری سب سے بڑی اقلیت کے جذبات اس طرح مجروح نہ کرے۔ تصویر: یو این آئی۔

نئی دہلی۔ مسلم خواتین کی بہبود کی غیر سرکاری تنظیموں کے فیڈریشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر جمہوریہ ہند کے خطاب میں مسلم خواتین کے تعلق سے اظہار خیال کو اسلام کے اصولوں پر راست حملہ قرار دیتے ہوئے حکومت کے اپروچ کی سخت مذمت کی ہے اور صدر سے خطبے کے متعلقہ حصے کو حذف کرانے کی درخواست کی ہے ۔ آج یہاں پریس کلب میں 29 غیر سرکاری تنظیموں کے فیڈریشن نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ ملک کی دوسری سب سے بڑی اقلیت کے جذبات اس طرح مجروح نہ کرے۔


فیڈریشن کی ڈائریکٹر ڈاکٹر اسما زہرہ نے بتا یا کہ 29 جنوری کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے صدر کے خطاب کے ذریعہ حکومت ہند نے جس طرح ملک کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے وہ انتہائی صدمہ انگیز ہے ۔ فیڈریشن کے مطابق یہ کہنا کہ دہائیوں سے مسلم خواتین کے وقار کو سیاسی مفاد کے ہتھے چڑھایا جاتا رہا اور اب قوم کو موقع ملا ہے کہ وہ اُنہیں ان حالات سے نجات دلائے ایک ایسے مذہب کے اصولوں پر حملہ ہے جس نے دنیا میں سب سے پہلے عورتوں کو مساوی حق اور وقار سے سرفراز کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطبے کے متعلقہ حصے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی جیسے مسلم خواتین کو اب تک سیاسی قیدی بنا کر رکھا گیا تھا اور موجودہ حکوممت انہیں نجات دلا رہی ہے۔


فیڈریشن نے الزام لگایا کہ  اس طرح حکومت نے مسلم خواتین کی اہانت کے لئے صدر کے باوقار عہدے کا مرتبہ کم کیا ہے۔ خواتین کی بہبود کی انجمنوں کی طرف سےحکومت کو مشورہ دیا گیا کہ وہ پارلیمنٹ میں اپنی دو ٹوک اکثریت کا اس طرح فائدہ نہ اٹھائےاور آئین کے ساتھ کھلواڑ نہ کرے اور سپریم کورٹ کے ایک غیر اکثریتی فیصلے کی آڑ میں قوم کو مسلسل گمراہ کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے ۔ فیڈریشن نے صدر سے درخواست کی کہ انہیں نمائندگی کا موقع دیا جائےتاکہ مسلم خواتین سے متعلق بل 2017 میں مجوزہ ترمیمات سے متعلق تازہ ترین تنازعے پر اپنا موقف پیش کر سکیں۔

First published: Jan 30, 2018 08:44 PM IST