ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پولیس کی مسلسل زیادتیوں سے تنگ آ کر مسلم نوجوان نے کی خود کشی

الہ آباد۔ یو پی پولیس کا بے رحم چہرہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے ۔ الہ آباد میں پیشے سے ہارڈ وئیرانجینئرایک مسلم نوجوان نے پولیس کی زیادتیوں سے تنگ آکرخود کشی کر لی ۔

  • ETV
  • Last Updated: Apr 14, 2016 07:39 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پولیس کی مسلسل زیادتیوں سے تنگ آ کر مسلم نوجوان نے کی خود کشی
الہ آباد۔ یو پی پولیس کا بے رحم چہرہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے ۔ الہ آباد میں پیشے سے ہارڈ وئیرانجینئرایک مسلم نوجوان نے پولیس کی زیادتیوں سے تنگ آکرخود کشی کر لی ۔

الہ آباد۔ یو پی پولیس کا  بے رحم چہرہ  ایک بار پھر سامنے آیا ہے ۔ الہ آباد میں پیشے سے ہارڈ وئیرانجینئرایک مسلم نوجوان نے پولیس کی زیادتیوں سے تنگ آکرخود کشی کر لی ۔ مقامی پولیس گذشتہ کئی دنوں سےاس نوجوان کو ہراساں کررہی تھی ۔ پولیس نے محمد شمی نام کے نوجوان کے خلاف مارپیٹ کے ایک معمولی واقعہ کے بعد کئی سنگین مقدمات درج کر دیے ۔ محمد شمی نے  سوسائڈ نوٹ میں اپنی موت کا ذمہ دار پولیس کو ٹھہرایا ہے ۔


 محمد شمی نے موت کو گلے لگانے سے پہلےلکھے اپنے سوسائڈ نوٹ میں مقامی پولیس پر ہراساں کرنے اوران کے گھروالوں کو بےعزت کرنے کا الزام لگایا ۔ محمد شمی نے لکھا  ہے کہ اللہ نے اس  کو ایک بیش قیمتی زندگی دی لیکن پولیس کی زیادتیوں کی وجہ سے وہ پھانسی لگانے پرمجبور ہے۔ شمی کےگھروالے شمی کی خود کشی کے لئے پولیس کو  ذمہ دارمان رہے ہیں ۔


شمی کے والد شکیل احمد بیٹے کی موت سے سکتے کے عالم میں ہیں ۔ان  کےجوان بیٹے کی خود کشی نے ان کو غموں سے نڈھال کر دیا ہے ۔اب وہ صرف انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ گھر اور محلے والوں کا بھی کہنا ہے کہ ایک معمولی جھگڑے کو پولیس نے ایک بڑا معاملہ بنا دیا۔


muslim


واضح رہے کہ پولیس شمی کو بار بار دھمکی دے رہی تھی ۔اسی دوران پولیس نے  کئی بار  سب کے سامنے شمی کے باپ کی بے عزتی بھی کی تھی ۔فی الحال پولیس شمی کی موت پرچپی سادھے ہوئے ہے۔

First published: Apr 14, 2016 07:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading