ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سرکاری دباو میں بیان جاری کر رہے ہیں علماء؟ عید الاضحیٰ دیرینہ روایت و احترام سے منائیں مسلمان: سابق گورنر عزیز قریشی کی اپیل

عزیز قریشی نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ کچھ مسلم لیڈر ، علما اور نام نہاد لوگ آر ایس ایس اور بی جے پی کو خوش کرنے اور اپنی جائدادیں اور کرسیاں بچانے کے لئے مسلم مخالف ، اسلام و شریعت کے خلاف بیان دے بھی رہے ہیں اور سن کر خاموش بھی ہیں۔

  • Share this:
سرکاری دباو میں بیان جاری کر رہے ہیں علماء؟ عید الاضحیٰ دیرینہ روایت و احترام سے منائیں مسلمان: سابق گورنر عزیز قریشی کی اپیل
عید الاضحیٰ دیرینہ روایت و احترام سے منائیں مسلمان: سابق گورنر عزیز قریشی کی اپیل

لکھنئو ۔ سبھی مسالک و مکاتب کے  علماء کی جانب سے یہ بیانات جاری کئے جانا کہ عید الاضحیٰ کا تیوہار سرکاری گائڈ لائنز اور اڈوائزری کے مطابق  منائیں ، لوگوں کو اس احساس اور خیال میں مبتلا کرتا ہے کہ یہ بیانات علماء خود دے رہےہیں یا ان پر کوئی سرکاری دباو ہے ؟ جس کی وجہ سے اس انداز کے بیانات مسلسل جاری کئے جارہے ہیں۔ مسلم مت داتا جاگروک سنگھ، رہائی منچ اور تحریک نسواں سمیت کئی تنظیموں نے ان بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے تنقید بھی کی ہے۔ مذکورہ تنظیموں کے لوگ یہ تو چاہتے ہیں کہ کورونا وبا کے اس ماحول میں لوگ گھروں میں رہیں، ایک دوسرے سے نہ ملیں، قربانیاں بھی کھلے اور عام مقامات پر نہ کرتے ہوئے برادران وطن کے جذبات کا احترام کریں۔ یہ ہمارے ملک اور معاشرے کے لئے ضروری ہے۔ لیکن ساتھ ہی لوگ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ حکومت کی ساری گائڈ لائنز اور ہدایات صرف دوسرے مذاہب بالخصوص مسلمانوں کے لئے ہیں، یہ کیسی جمہوریت ہے، یہ کیسا نظام ہے۔


نوجوان لیڈر شعیب ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ یہی سب اصول ایودھیا اور دیگر مقامات پر بھی نافذ ہونے چاہئیں جہاں وقتاً فوقتاً مختلف انداز کی مذہبی رسومات کی ادائیگی بھی کی جارہی ہے اور کثیر تعداد میں لوگ جمع بھی ہورہے ہیں۔ یہ سوالات بے معنی تو نہیں تاہم علماء نہ ان پر تبصرہ کرنا چاہتے ہیں نہ ان کا کوئی جواب دینا چاہتے ہیں۔ عید الاضحیٰ کے تعلق سے مولانا خالد رشید ، مولانا کلب جواد اور مولانا سیف عباس کی جانب سے یہ بیانات تو جاری کئے گئے کہ سرکاری سطح پر جاری کی جانے والی ہدایات کے مطابق رمضان اور عید الفطر کی طرح ہی عید الاضحیٰ بھی اپنے گھروں پر رہ کر منائیں لیکن علماء کرام کی جانب سے بی جے پی لیڈروں کے ان بیانات کی مذمت  نہیں کی جارہی ہے جن بیانات میں اسلام کی توہین کی گئی ہے۔ شریعت کا مذاق اڑاتے ہوئے مسلم بچوں کی قربانی دینے کی بات کی گئی ہے۔


یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کچھ مصلحت پسند علماء بھلے ہی خاموش ہوں لیکن مولانا یعسوب عباس، مولانا علی حسین قمی اور مولانا شباہت حسین نے بی جے پی لیڈر کے اسلام مخالف بیان کی شدید مذمت و مخالفت کی ہے۔ اتر پردیش اور  اترا کھنڈ کے سابق گورنر عزیز قریشی نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ اگر مسلمانوں کی شریعت میں مداخلت کی گئی ، ان کی وفاداریوں پر شک کیا جاتا رہا، انہیں نظرانداز کرکے ذلیل و خوار کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تو پھر اپنے تشخص اور اپنے دین و شریعت کی حفاظت کے لیے مسلمان کسی حد تک بھی جائیں گے۔ مسلمانوں کی شرافت و خاموشی کو بزدلی نہ سمجھا جائے۔عزیز قریشی نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ کچھ مسلم لیڈر ، علما اور نام نہاد لوگ آر ایس ایس اور بی جے پی کو خوش کرنے اور اپنی جائدادیں اور کرسیاں بچانے کے لئے مسلم مخالف ، اسلام و شریعت کے خلاف بیان دے بھی رہے ہیں  اور سن کر خاموش بھی ہیں۔ انہیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن خدا کا نظام ہمیشہ رہنے والا نظام ہے لہٰذا وہ عارضی عیش و عشرت اور ذاتی مفاد کے لئے قوم و ملت اور شریعت کا سودا کرکے لوگوں کو گمراہ نہ کریں ۔ساتھ ہی سابق گورنر نے یہ بھی کہا کہ مسلمان ہمیشہ ملک کا وفادار رہاہے۔ ملک کے لئے قربانیاں پیش کرتا رہا ہے۔ ایکتا اور یکجہتی کے لئے پیش پیش رہا ہے اور عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی وہ سبھی قدروں کی پاسداری کرتے ہوئے کورونا کی احتیاطوں کے ساتھ شریعت کی روشنی میں قربانی پیش کرے گا۔ برادران وطن کو ساتھ لے کر عید الاضحیٰ کا تیوہار منائے گا۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 29, 2020 02:20 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading