ہوم » نیوز » No Category

منفرد مثال : غریب ہندو قیدیوں کی رہائی کے لئے مسلمانوں نے جمع کئے پیسے

بریلی: ملک میں عدم برداشت کے معاملے پر چل رہی تیکھی بحث کے درمیان ایک مسلم گروپ نے 15 ہندوؤں کے لئے ایک ایسا کام کیا ہے ، جو دیگر لوگوں کے لئے ایک نظیر سے کم نہیں ہے۔

  • News18
  • Last Updated: Nov 27, 2015 01:36 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
منفرد مثال : غریب ہندو قیدیوں کی رہائی کے لئے مسلمانوں نے جمع کئے پیسے
بریلی: ملک میں عدم برداشت کے معاملے پر چل رہی تیکھی بحث کے درمیان ایک مسلم گروپ نے 15 ہندوؤں کے لئے ایک ایسا کام کیا ہے ، جو دیگر لوگوں کے لئے ایک نظیر سے کم نہیں ہے۔

بریلی: ملک میں عدم برداشت کے معاملے پر چل رہی تیکھی بحث کے درمیان ایک مسلم گروپ نے 15 ہندوؤں کے لئے ایک ایسا کام کیا ہے ، جو دیگر لوگوں کے لئے ایک نظیر سے کم نہیں ہے۔


بریلی ڈسٹرکٹ جیل میں بند ہندو قیدیوں کی رہائی کے لئے مسلم نوجوانوں نے 50 ہزار روپے کی رقم باہمی کوششوں سے جمع کی ، تاکہ ان کا جرمانہ ادا کیا جا سکے۔ یہ تمام لوگ ٹکٹ کے بغیر ٹرین میں سفر کرنے کے جرم میں جیل میں بند تھے۔ ان کے پاس جرمانہ بھرنے کے لئے پیسے نہیں تھے ، اس لیے انہیں اضافی سزا دی گئی تھی۔ جرمانہ بھرنے کے بعد یہ تمام لوگ جیل سے باہر آ گئے۔


جیل کے باہر ان سب مسلمانوں نے ان کا استقبال کیا ، جنہوں نے پیسے جمع کر کے ان کے جرمانے کی رقم جمع کی تھی ۔ 15 لوگ بدھ کی شام جب جیل سے باہر آئے تو ہر طرف خوشی تھی اور آنکھوں میں آنسو تھے۔


جیل سے باہر نکلے ایک شخص نند کشور نے بتایا کہ بےٹكٹ سفر کرنے پر پکڑے جانے کے بعد 1 ہزار روپے کا جرمانہ نہیں بھرنے کی وجہ سے اسے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ جب وہ جیل سے باہر آیا ، تو حاجی یاسین قریشی اور اس کے دوستوں نے اسے گلے لگایا اور اپنے ساتھ لے گئے۔


قریشی نے کہا کہ وہ اوپر والا ہی ہے ، جس کی مدد سے یہ کام انجام دیا گیا ہے ، اس کے لئے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تمام 15 لوگوں نے حلف لیا ہے کہ وہ دوبارہ ایسی غلطی نہیں کریں گے۔


ان مسلم نوجوانوں نے نند کشور کو اس کے آبائی گاؤں پہنچانے کا انتظام بھی کیا اور اس کو اتنا پیسہ دیا کہ وہ گھر جا سکے۔ نند کشور کے علاوہ اجے کمار، کشن ساگر ، پپو اور تلک کی بھی یہی کہانی تھی۔ جیل سے باہر آنے کے بعد سب کو گلے لگایا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر تمام لوگ جذباتی ہو گئے۔


قریشی نے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ جیل حکام کی طرف سے ان قیدیوں کے بارے میں پتہ چلا ۔ انہوں نے کہا کہ 'اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ جو کچھ بھی ہمارے بس میں ہے، ہم کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے کے لئے اللہ نے ہماری مدد کی۔


قیدیوں کی مدد کرنے والے ایک اور شخص حاجی محمد انیس ایک بزنس مین ہیں۔ انیس نے کہا کہ صاحب یہ تو ہمارا وطن ہے اور ہندو ہمارے بھائی ہیں۔ ہم یہیں پیدا ہوئے اور یہیں خاک میں مل جائیں گے۔


بریلی ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ بی آر موریہ نے بتایا کہ 15 قیدی معمولی جرم کی سزا بھگت رہے تھے۔ ان میں سے کچھ کو امن میں خلل ڈالنے کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ تمام 6 ماہ سے 1 سال تک کی سزا بھگت رہے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر نے اپنی سزا پوری بھی کر لی تھی ، لیکن کورٹ کی طرف سے جرمانے کے عوض میں دی گئی سزا پوری نہیں کر پا رہے تھے۔

First published: Nov 27, 2015 01:36 PM IST