உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مختلف ملی تنظیموں کے سربراہان اورمسلم رہنماوں نے پلوامہ دہشت گردانہ حملے کوبزدلانہ عمل قراردیتے ہوئے کہا یہ کبھی جہاد نہیں ہوسکتا

    پلوامہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں پر دہشت گردانہ حملہ

    پلوامہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں پر دہشت گردانہ حملہ

    جمعیۃ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی، مولانا سید جلال الدین عمری، مولانا اصغرعلی امام مہدی، مولانا سید احمد بخاری، مولانا محمد رحمانی مدنی کےعلاوہ اسلامی اسکالر پروفیسراخترالواسع اورکمال فاروقی وغیرہ نے دہشت گردانہ عمل کی زبردست مخالفت کی۔

    • Share this:
      جموں وکشمیر کے پلوامہ ضلع میں سی آرپی ایف کے جوانوں کی شہادت کے بعد پورے ملک میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اسی ضمن میں ملی تنظیموں اورسرکردہ مسلم رہنماوں نے بھی جوانوں پرہوئے دہشت گردانہ حملے کوبزدلانہ عمل قراردیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جمعیۃ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی، جماعت اسلامی ہند کے امیرمولانا سید جلال الدین عمری، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے امیرمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، شاہی امام مولانا سید احمد بخاری، مرکزابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹرکے صدرمولانا محمد رحمانی مدنی کےعلاوہ معروف اسلامی اسکالر پروفیسراخترالواسع، مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن کمال فاروقی، آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرمنظورعالم وغیرہ نےاس عظیم سانحہ کی مذمت کی ہے۔ ساتھ ہی مساجد میں بھی ملک کی سلامتی اور بری طاقتوں سے محفوظ رہنےکے لئے دعاکی گئی۔
      جمعیۃ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پرہوئے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گردانہ اور بزدلانہ عمل ہے جو کبھی جہاد نہیں ہوسکتا، ہندوستان کے تمام انصاف پسند شہری اس اندوہ ناک حادثہ پرمقتولین کے تئیں انتہائی صدمہ اوردہشت گردوں کے تئیں انتہائی بے زاری اورنفرت کا اظہارکرتے ہیں، ہم سب مقتولین کے غمزدہ خاندان کے ساتھ بلا امتیاز مذہب و ملت کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ اس دہشت گردانہ کارروائی نے کشمیرمیں امن وامان کے قیام کومزید خطرے میں ڈال دیا ہے، لیکن ہمیں ہرگزمایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جد وجہد کوہرسطح پرپوری طاقت سے ساتھ جاری رکھنا چاہئے۔
      مولانا سید جلال الدین عمری نےدہشت گردانہ حملے پرسخت رنج وافسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ تشدد وخونریزی کا راستہ ہلاکت و تباہی سے تو قریب کرسکتا ہے، اس سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ بڑی تعداد میں جوانوں کا جاں بحق ہوجانا شدید تکلیف کا باعث ہے،اس لئے وہاں کی فضا کومکدرکرنے کے بجائےامن وامان کے راستے تلاش کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔

      مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئےاسے افسوسناک، بزدلانہ اوربدبختانہ عمل قراردیا ہے۔ فوجی جوانوں کی ہلاکت پرگہرے رنج و افسوس کااظہارکیاہے اورحملہ کونہایت بزدلانہ وغیرانسانی عمل اورقومی سیکورٹی اورامن کے لئے بڑا خطرہ قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے وقتاً فوقتاً جس طرح فوجیوں کواپنی بربریت کا نشانہ بنایا ہے وہ ملک کی سیکورٹی اور حکومت کےلئے لمحہ فکریہ اورتمام ہندوستانیوں اورانسانیت نوازوں کےلئے عظیم سانحہ اورصدمہ جانکاہ ہے۔ حکومت کوجلدازجلدایسے اقدامات اورتدابیراختیارکرنی چاہئیں جن سے ہمارے بیش قیمت اثاثہ اورقابل فخر فوجی جوانوں اورعوام کی جان ومال محفوظ رہ سکے۔

      مولانا سید احمد بخاری نےکہا کہ سی آرپی ایف کے جوانوں پرہوا دہشت گردانہ حملہ کو انتہائی بزدلانہ کارروائی قراردیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہےاورجاں نثارانِ وطن کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارتعزیت وہمدردی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں پورا ہندوستان، ریاست اوراس کے اداروں کے ساتھ وطن عزیزکے دفاع کی جنگ میں پوری مستعدی کے ساتھ کھڑا ہے۔ امام بخاری نےعوام سے اپیل کرتے ہوئےکہا ہے کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں پورے ملک امن وامان، اتحاد ویکجہتی اوربھائی چارہ بنائے رکھیں۔ ساتھ ہی ہم ایسا کوئی بھی ردعمل ظاہرنہ کریں جس سے دشمن فائدہ اٹھائے اوراس کے عزائم کوتقویت ملے۔

      مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے پلوامہ دہشت گردانہ حملہ ایک بزدلانہ اورشیطانی فکرکا نتیجہ ہے اوراس کی جتنی تردید کی جائےکم ہے، ایسا کرنے والے اسلامی موقف کے مطابق جہنم کے کتے اورخارجی فکرکے لوگ ہیں، ان کا تعلق جس بھی مذہب سے درحقیقت وہ مذہبی ہو ہی نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی بہت باریکی کے ساتھ مبنی بر انصاف تحقیق ہونی چاہئے اوراس کے قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے۔

      پروفیسراخترالواسع نے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں پورا ملک حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔ ساتھ ہی حکومت سے کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ کمال فاروقی نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے خون کے دھبے چھپا نہیں سکتا ہے۔ ڈاکٹر منظورعالم نے سانحہ کو انتہائی سفاکانہ قراردیتے ہوئے شہدا وزخمیوں کے خاندانوں کے ساتھ تعزیت اورہمدردی ظاہرکی ہے۔
      First published: