உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلمانوں کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت : شکیل صمدانی

     جس طرح مرکزی اور صوبائی سطح پر مسلمانوں کو بے وزن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کا مقابلہ صرف اور صرف ملی اتحاد سے کیا جاسکتا ہے۔

    جس طرح مرکزی اور صوبائی سطح پر مسلمانوں کو بے وزن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کا مقابلہ صرف اور صرف ملی اتحاد سے کیا جاسکتا ہے۔

    جس طرح مرکزی اور صوبائی سطح پر مسلمانوں کو بے وزن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کا مقابلہ صرف اور صرف ملی اتحاد سے کیا جاسکتا ہے۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      جونپور:یونائیٹڈ مسلم آرگنائزیشن کے قومی صدر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے معروف استاد پروفیسر شکیل صمدانی نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ ملک کے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے کہ مسلمانوں کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جس طرح مرکزی اور صوبائی سطح پر مسلمانوں کو بے وزن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کا مقابلہ صرف اور صرف ملی اتحاد سے کیا جاسکتا ہے۔ پروفیسر صمدانی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ قومی میڈیا کا استعمال جس انداز سے کیا جارہا ہے اس میں مسلمانوں کی ہر اچھی بات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے اور منفی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ایسی صورت حال میں مسلمانوں کو خاص طور پر اردو اخبارات اور انگریزی ملّی پورٹلس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے کیونکہ انھیں اردو اخبارات کی وجہ سے ہم تک ہمارے مسائل اور ہماری خبریں پہنچتی ہیں۔ مسلمانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ دن بدن اردو اخبارات اور رسائل سے دور ہوتے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے زیادہ تر مسلمان اپنے اصلی مسائل سے واقف ہی نہیں ہیں اور ہندی اور انگریزی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے ذریعہ فرضی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنا میڈیا کھڑا کریں اور رمضان کے مقدس مہینے میں ملت کے مالدار افراد اور دانشوران مل کر ملک کے مظلوم طبقات کے لئے ایک آزاد میڈیا کھڑاکرنے کی کوشش کریں۔ یو ایم او کے صدر نے اس بات پر مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا کہ جنوبی ہندوستان میں مسلمانوں نے اپنی مادری اور صوبائی زبانوں میں اخبارات اور ٹی وی چینل کھول رکھے ہیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی بھی پروپیگنڈہ کام نہیں کرپاتا ہے۔
      پروفیسر شکیل صمدانی نے مزید کہا کہ آج کل مختلف سیاسی پارٹیوں کے لوگ اس طرح کی بیان بازی کر رہے ہیں جس سے یہ لگ رہا ہے کہ صوبہ اتر پردیش فرقہ وارانہ فسادات کے دہانہ پر کھڑا ہے جبکہ حالات اس سے مختلف ہیں۔ جس طرح کیرانہ میں وہاں کے مقامی ہندوئوں اور مسلمانوں نے جھوٹے پروپیگنڈے اور جذبات سے بھرے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول کو پٹخنی دی ہے وہ اس بات کا ثبو ت ہے کہ اگر مقامی لوگ چاہیں تو فرقہ وارانہ فسادات کرانے والوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ قابل مبارک باد ہیں کیرانہ اور آس پاس کے علماء کرام، دانشوران، ملی کارکنان اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی لیڈران سماجی کارکنان او رسنجیدہ لیڈران جنہوں نے پورے جنوبی یوپی کو فساد کی آگ میں جھونکنے والی سازش کو ناکام بنا دیا۔ انھوں نے سیاسی لیڈران کو آگاہ کیا کہ وہ اس طرح کی بیان بازی بند کریں جس سے لگے کہ صوبے میں فسادات ہونے والے ہیں اور حکومت خود فساد کروانا چاہتی ہے ورنہ یونائیٹڈ مسلم آرگنائزیشن ایسی سیاسی پارٹیوں اور لیڈران کے خلاف کھل کر میدان میں آجائے گی۔
      اخیر میں پروفیسر صمدانی نے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینہ میں مشرق وسطیٰ اور مسلم ممالک میں قتل و غارت گری اور ظلم وبر بریت کا ماحول گرم ہے اسی عشرہ میں شب قدر بھی ہے مسلمان اس عشرہ میں دعا کو اپنا ہتھیار بنائیں اور اللہ تعالیٰ سے دعاء کریں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں میں رحم پیدا کرے اور وہ مسلکی بنیادوں پر ایک دوسرے کی گردن نہ ماریں۔ شام اور عراق کے مسلمان خصوصی دعا کے مستحق ہیں کیونکہ وہاں مرنے اور مارنے والے دونوں ہی مسلمان ہیں یہ ایک الگ بات ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کو کافر سمجھ رہے ہیں۔ یو ایم او کے صدر نے اعلان کیا کہ انشاء اللہ رمضان کے بعد اگست کے مہینہ میں مسلم پرسنل لاء اور یونیفارم سول کوڈ کے تعلق سے ایک قومی کنونشن کیا جائے گا جس میں مسلم پرسنل لاء کو در پیش خطرات پر غور و خوض کیا جائے گا جس میں ملک کے چنندہ وکلا، جج صاحبان، علمائے کرام اور دانشوران کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گااور مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
      First published: