ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مسلمان پیٹ پر پتھرباندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں، تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی کی اپیل

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے ہمیں انتہائی مسرت کا احساس ہورہا ہے کہ ہماری اس ادنی ٰسی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل کسی حدتک سنور سکتاہے جنہیں اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔

  • Share this:
مسلمان پیٹ پر پتھرباندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں، تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی کی اپیل
مولانا ارشد مدنی کی فائل فوٹو

نئی دہلی۔ ہر سال کی طرح سال 2021-2022 کے لئے بھی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشدمدنی نے آج تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ پیٹ پر پتھرباندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں اور اب ہمیں ایسے اسکولوں کی ضرورت ہے جس میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے دنیاوی تعلیم حاصل کرسکیں۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے ہمیں انتہائی مسرت کا احساس ہورہا ہے کہ ہماری اس ادنی ٰسی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل کسی حدتک سنور سکتاہے جنہیں اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی جنگ اب شروع ہوئی ہے اس کا مقابلہ کسی ہتھیار یاٹکنالوجی سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس جنگ میں سرخروئی حاصل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کرکے اس لائق بنادیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیار سے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کوشکست سے دوچارکرکے کامیابی اور کامرانی کی وہ منزلیں سرکرلیں جن تک ہماری رسائی سیاسی طورپر محدود اور مشکل سے مشکل تربنادی گئی ہے۔


مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کردیا، سچرکمیٹی کی رپورٹ اس کی شہادت دیتی ہے جس میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ مسلمان تعلیم کے شعبہ میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں۔ مولانامدنی نے سوال کیا کہ کیا یہ خودبخودہوگیا یا مسلمانوں نے جان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیارکی؟ ایساکچھ بھی نہیں ہوا بلکہ اقتدارمیں آنے والی تمام سرکاروں نے ہمیں تعلیمی پسماندگی کاشکار بنائے رکھا۔ انہوں نے شاید یہ بات محسوس کرلی تھی کہ اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے تو اپنی صلاحیتوں اور لیاقت سے وہ تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر فائزہوجائیں گے، چنانچہ تمام طرح کے حیلوں اور رکاوٹوں کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیم کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کردینے کی کوششیں ہوتی رہیں۔


انہوں نے زوردیکر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان پیٹ پر پتھرباندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ ہمیں ایسے اسکولوں اور کالجوں کی اشدضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے اعلیٰ دنیاوی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کرسکیں، جو حالات ہیں ان میں مسلمانوں کو قیادت کی نہیں بلکہ ان کے اندر تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ پیداکرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی مقصدکے تحت جمعیۃعلماء ہند ضرورت مند طلبہ کو کئی برس سے تعلیمی وظائف دینے کا اہتمام کررہی ہے تاکہ وسائل کی کمی یا غربت کی وجہ سے ذہین اور ہونہار بچے تعلیم سے محروم نہ رہ جائیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ رواں سال 2021-2022 کے وظیفے کے لئے فارم پر کرنے کی تاریخ 30جنوری 2021 ہے۔ فارم ویب سائٹ www.jamiatulamaihind.com سے اپلوڈکیا جاسکتاہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ وہ طلباء جو کسی سرکاری یامعروف ادارے سے انجینئرنگ، میڈیگل، ایجوکیشن، جرنلزم سے متعلق یا کوئی بھی ٹیکنکل یا پروفیشنل کورس کررہے ہوں اور گزشتہ امتحان میں جنہوں نے کم سے کم 70فیصدنمبرحاصل کئے ہوں، وہ وظیفے کے اہل ہوں گے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 13, 2021 07:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading