ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مسلمانوں کی فلاح وبہبود کےلئے 4 سال بعد ہوئی میٹنگ میں حکومت کی نیت پرسوال

د ہلی کے وگیان بھون میں تقریباً 4 سالوں کے بعد نیشنل مائنارٹی کمیٹی فارمیلٹی ایجوکیشن کی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں تعلیم کولے کر کئی طرح کے سوال اٹھے۔ مدرسہ ایجوکیشن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سینٹر سے لے کر اسکول ڈراپ آوٹ، اقلیتی طلبا کی کوچنگ اور اسکالر شپ کا سوال اٹھا۔

  • Share this:
مسلمانوں کی فلاح وبہبود کےلئے 4 سال بعد ہوئی میٹنگ میں حکومت کی نیت پرسوال
د ہلی کے وگیان بھون میں تقریباً 4 سالوں کے بعد نیشنل مائنارٹی کمیٹی فارمیلٹی ایجوکیشن کی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں تعلیم کولے کر کئی طرح کے سوال اٹھے۔ مدرسہ ایجوکیشن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سینٹر سے لے کر اسکول ڈراپ آوٹ، اقلیتی طلبا کی کوچنگ اور اسکالر شپ کا سوال اٹھا۔

نئی دہلی: دہلی کے وگیان بھون میں تقریباً 4 سالوں کے بعد نیشنل مائنارٹی کمیٹی فارمیلٹی ایجوکیشن کی میٹنگ ہوئی۔  میٹنگ  میں تعلیم  کولے کر کئی طرح کے سوال اٹھے۔ مدرسہ ایجوکیشن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سینٹر سے لے کر اسکول ڈراپ آوٹ، اقلیتی طلبا کی کوچنگ اور اسکالر شپ کا سوال اٹھا۔


سال 2013 کے بعد اقلیتوں کی تعلیم کو لے کر مائنارٹی کمیٹی کی دہلی کے وگیان بھون میں ہوئی میٹنگ میں پورے ملک سے لوگ پہنچے۔ میٹنگ میں گجرات اوراترپردیش کے وزیرتعلیم بھوپیندر سنگھ اور سندیپ سنگھ کے علاوہ ممبرپارلیمنٹ مجید میمن بھی پہنچے۔ جبکہ اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر طارق منصور اورپروفیسر طلعت احمد  بھی میٹنگ میں شریک ہوئے۔


اس موقع پر وزارت نے ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت نے گزشتہ 4 سالوں میں حیرت انگیز کام کیا ہے۔ مسلم اساتذہ کی تعداد 25266 سے بڑھ کر 43844 ہوگئی ہے جبکہ اقلیتی اساتذہ کی تعداد گزشتہ 5 سالوں میں 42266 سے بڑھ کر 121695 ہوگئی ہے۔


پوری ریاست میں 550 کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ  مختلف علاقوں میں چل رہے ہیں جہاں پر مسلمانوں کی آبادی 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ 544 اسکولوں میں 25 فیصد مسلم لڑکیاں زیرتعلیم ہیں۔ 359 گرلس ہاسٹل اقلیتی علاقوں میں بنائے گئے ہیں۔ اقلیتی علاقوں میں 64 ماڈل ڈگری کالج بنائے جانے ہیں، جن میں سے 25 کے لئے فنڈ بھی جاری کردیا گیا ہے۔

اسی طرح حکومت نے دعوی کیا کہ حکومت پہلے کے مقابلے زیادہ فنڈ خرچ کررہی ہے ۔اقلیتی وزارت کے تحت تقریباً 17 کروڑ روپئے 18-2017 میں اسکالر شپ کے لئے دیئے گئے ہیں۔ پڑھو پردیش کے لئے بجٹ گزشتہ پانچ سالوں میں چار کروڑ سے بڑھا کر 24 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔ اسی طرح مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کا بجٹ گزشتہ تین سالوں میں 55 کرو ڑ روپئے سے بڑھا کر 125 کروڑ ہوگیا ہے۔ اسی طرح نئی اڑان اسکیم کے تحت گزشتہ 5 سالوں میں بجٹ چار کروڑ سے بڑھا کر 80 کروڑ ہوگیا ہے، جس سے تقریباً 1500 طلبا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ رپورٹ کو دیکھ کر وزیر موصوف خوش نظر آئے۔

تقریباً 4 سال بعد ہورہی مائنارٹی کمیٹی کی میٹنگ میں ممبران میں بہت زیادہ سمجھ دکھائی نہیں دی اور نہ ہی میٹنگ کا کوئی ایجنڈا دکھائی دیا۔ یہی وجہ تھی کہ میٹنگ کے دوران نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین شپ پر خاموشی چھائی رہی۔ مدرسہ ماڈرن ایجوکیشن اسکیم کے ٹیچروں کی سالوں سے رکی تنخواہ پر بھی سوال نہیں اٹھا جبکہ اقلیتی طلبا کے ڈراپ آوٹ، گرلس کا ڈراپ آوٹ اور اقلیتی علاقوں میں اسکول کھولے جانے، مہاراشٹر میں اے ایم یو کا برانچ  کے علاوہ آل انڈیا مدرسہ بورڈ بنائے جانے اور مدرسوں کے رجسٹریشن کا سوال اٹھا تو ساتھ ہی اقلیتی طلبا کی ترقی اور کوچنگ کرائے جانے کے مشورے بھی آئے۔ اس موقع پر انسانی وسائل برائے ترقیات کے وزیر مملکت ستپال سنگھ نے یقین دہانی کرائی کہ جو سفارشات آئی ہیں، ان پر وزارت غور کرے گا اور اس کو نافذ کرے گا۔

اے ایم یو کے وائس چانسلر طارق منصور نے مدارس کو کمپیوٹرسے جوڑنے کی وکالت کی اور اسکول کھولنے پرزوردیا۔ تو کئی ممبروں نے اے ایم یو کا سینٹر مہاراشٹر میں شروع کرنے کا معاملہ اٹھایا۔  ممبرپارلیمنٹ مجید میمن نے اس بات پرزوردیا کہ حکومت لبھاونے وعدوں کے ذریعہ سیاست نہ کرے بلکہ سچی نیت سے کام کرے، تو وہ حکومت کے اقدامات کا استقبال کریں گے۔
First published: Jul 06, 2018 09:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading