உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رمضان میں تراویح چھوڑ کر آئی پی ایل دیکھ رہے ہیں مسلمان، عالم دین مزمل رشدی کا ولولہ انگیز خطاب

    مولانا مزمل رشدی نے رمضان میں عبادت نہ کرنے والے مسلمانوں کو آئینہ دکھایا۔

    مولانا مزمل رشدی نے رمضان میں عبادت نہ کرنے والے مسلمانوں کو آئینہ دکھایا۔

    مولانا مزمل رشدی نے اسلامی تعلیمات سے متعلق مسلمانوں کی مردہ دلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا ضمیر مردہ ہوگیا ہے کیونکہ ہم اسلام سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں۔ مسجدوں کی دیواریں رو رہی ہیں، قرآن شریف رو رہا ہے کہ ہمیں کوئی پڑھنے والا نہیں ہے۔ مسجدوں میں نماز پڑھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے، گھرو کی خواتین فون کرکے شکایت کر رہی ہیں ہمارے گھر کے افراد نمازیں چھوڑ کر مسلمان رمضان المبارک میں مبتلا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: رمضان کا مبارک ومقدس مہینہ ہر مسلمان کے لئے ایک نعمت ہے۔ اس مبارک مہینے میں تمام عبادات کے درجات کو بلند کر دیا جاتا ہے۔ اس مقدس ماہ کی فضیلت یہ ہے کہ جس نے اس مبارک مہینے کا احترام کرلیا، سمجھے اللہ کی خوشنودی حاصل کرلی۔ مگر جو اس مبارک مہینے کو پاکر بھی کچھ نہ کرسکا، وہ بڑا بد نصیب ہے۔ بہرحال یہ مبارک مہینہ ہے اس کا احترام ضروری ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ مجبوری، بے بسی، لاچاری اور بے کسی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، ذلیل وخوار اور رسوا ہو رہے ہیں، اس کے باوجود اپنی اصلاح کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ مبارک مہینہ اللہ کی جانب سے نایاب تحفہ ونادر موقع ہے کہ اپنی عبادت سے اللہ کو راضی کرسکتے ہیں اورجب وہ راضی ہوگیا تو ہماری مجبوری، بے بسی اور لاچاری ومحتاجی کاخاتمہ ہو سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ اس مبارک مہینے کا اب تک عام مسلمانوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔

      اس ضمن میں عالم دین مولانا مزمل رشدی نے رمضان کے مہینے سے متعلق اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا مسلمان اسلام سے کتنادور ہوتا جا رہا ہے۔ مسلمان عشا کی نمازاور تراویح چھوڑ کر انڈین پریمیئرلیگ (آئی پی ایل) دیکھنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا آئی پی ایل کا وقت جو متعین ہے، وہ بالکل عشا کی نماز کا وقت ہے۔ آئی پی ایل ساڑھے سات بجے شروع ہوتا ہے۔ اللہ اور اس کے نبی نے اسلامی تعلیمات کے ذریعہ رمضان کی عظمت اور تقدس کی وضاحت کردی ہے، لیکن مسلمان پھر بھی اللہ کی نافرمانی کرنے پر آمادہ ہے۔

      مولانا مزمل رشدی نے اسلامی تعلیمات سے متعلق مسلمانوں کی مردہ دلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا ضمیر مردہ ہوگیا ہے کیونکہ ہم اسلام سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں۔ مسجدوں کی دیواریں رو رہی ہیں، قرآن شریف رو رہا ہے کہ ہمیں کوئی پڑھنے والا نہیں ہے۔ مسجدوں میں نماز پڑھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے، گھروں کی خواتین فون کرکے شکایت کر رہی ہیں ہمارے گھر کے افراد نمازیں چھوڑ کر مسلمان رمضان المبارک میں مبتلا ہیں۔ مسلمانوں کی مردہ دلی کی وجہ سے آج دنیا میں ان کی کوئی بھی سننے والا نہیں ہے۔


      مولانا مزمل رشدی نے مسلمانوں کی تنزلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا کونسلر، ہمارا ایم ایل اے، رکن پارلیمنٹ یہاں تک حکومتیں ہماری کوئی بھی نہیں سنتا ہے اور ہم دنیاوی اعتبار سے رسوا کئے جا رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اسلام سے بہت دور ہوچکا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں ذلیل کئے جا رہے ہیں اور آخرت میں بھی اس کی سخت  سزا متعین ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: