ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیا شاہین باغ مظاہرین دو گروپوں میں ہو رہے ہیں منقسم؟

میڈیا میں بیان دینے کے لئے جس طرح سے مظاہرین ایک دوسرے پر سبقت کرتے نظر آئے اور جس طرح سے الگ الگ بیانات دئیے، اس سے تو یہی ظاہر ہو رہا تھا کہ مظاہرین میں سے کچھ لوگ اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہوئے ہیں۔

  • Share this:
کیا شاہین باغ مظاہرین دو گروپوں میں ہو رہے ہیں منقسم؟
شاہین باغ مظاہرین

نئی دہلی۔ جنوبی دہلی کے شاہین باغ علاقے میں پچھلے دو مہینے سے زائد عرصےسے شہریت ترمیمی قانون کےخلاف احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں مرد وخواتین، بوڑھے اور بچے دن رات مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ احتجاجی مظاہرہ پچھلے سال پندرہ دسمبر سے جاری ہے۔ یہاں 16 فروری یعنی کل اتوار کے روز بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ مظاہرین نے وزیر داخلہ امت شاہ کی دعوت پر کہ کوئی بھی آکر مل سکتا ہے، اسے دعوت عام تصور کرتے ہوئے ان سے ملاقات کرنے کے لئے جلوس کی شکل میں مارچ کرنے کی کوشش کی جس کی پولیس نے اجازت نہیں دی۔ مظاہرین نے جب شاہین باغ مظاہرہ کے مقام سے مارچ نکالنے کی کوشش کی تو بڑی تعداد میں آگے کھڑی پولیس نے انہیں مارچ نکالنے سے منع کر دیا جس کی وجہ سے مظاہرین شاہین باغ سے آگے بڑھ نہیں پائے۔


مارچ سے روکے جانے کے بعد شاہین باغ مظاہرین کے درمیان اختلاف نظر آنے لگا۔ میڈیا میں بیان دینے کے لئے جس طرح سے مظاہرین ایک دوسرے پر سبقت کرتے نظر آئے اور جس طرح سے الگ الگ بیانات دئیے، اس سے تو یہی ظاہر ہو رہا تھا کہ مظاہرین میں سے کچھ لوگ اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہوئے ہیں۔ جہاں تک وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کا معاملہ ہے، اس پر بھی مظاہرین دو گروپوں میں منقسم ہوتے نظر آئے۔ ایک گروپ کا کہنا تھا کہ جب وزیر داخلہ نے شاہین باغ مظاہرین سے بات کرنے کی حامی بھری ہے تو ہمیں اس موقع کا خیرمقدم کرنا چاہئے اور کل نکالا جانے والا مارچ اسی سوچ کا ایک حصہ تھا۔ جبکہ دیگر کئی مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسے مارچ کی شکل میں ہزاروں کی بھیڑ کا وزیر داخلہ کے گھر تک جانا صحیح نہیں ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ وزیر داخلہ از خود شاہین باغ آئیں اور یہاں مظاہرین اور میڈیا کے سامنے اپنی بات رکھیں اور پھر ان سے گفت وشنید کا سلسلہ شروع ہو۔



اتوار کے روز مارچ کی اجازت نہ ملنے کے بعد مظاہرین آپسی تال میل نہ ہونے کی بات کہنے لگے، ایک دوسرے سے بحث ومباحثے میں الجھنے لگے۔ بالآخر طئے ہوا کہ وہاں موجود ڈی سی پی آر پی مینا سے صرف ’ دادیاں‘ بات کریں گی۔ دادیوں نے پولیس کے سینئر حکام سے مارچ نکالنے کی اجازت طلب کی تو حکام نے کہا کہ ’ ہم نے آپ کی درخواست کو متعلقہ حکام کو بھیج دیا ہے اور جیسے ہی اجازت اور منظوری ملتی ہے ہم آپ کو کو آگاہ کردیں گے اور پھر ملنے کے لئے جا سکتی ہیں۔ خاتون مظاہرین اور دبنگ دادیوں کی طرف سے بات کرتے ہوئے ایڈوکیٹ اقبال فیروز خاں، ایڈوکیٹ محمد انور اور ایڈوکیٹ فرید خاں نے بتایا کہ پولیس کے سامنے ہم نے مارچ کرکے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے کا مطالبہ پیش کیا جس پر انہوں نے کہاکہ ہم نے آپ کے مطالبے کو متعلقہ حکام کے پاس بھیج دیا ہے اور جیسے ہی اس پر کوئی بات ہوگی آپ کو اطلاع کردی جائے گی اور اس وقت تک آپ مارچ نہ کریں کیوں کہ اس سے امن و قانون کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مظاہرین کی طرف سے ان ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم امن و قانون سے کھلواڑ کرنے والے لوگ نہیں ہیں اور ہم قانون کا احترام کرتے ہیں۔ ہم انتظار کریں گے۔

یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ
First published: Feb 17, 2020 11:15 AM IST