உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مظفرنگر فساد متاثرین کے زخموں پر جمعیت علماء ہند کا باز آباد کاری مرہم ، مزید 66 خاندانوں کو فراہم کیا آشیانہ

    مظفرنگر فساد متاثرین کے زخموں پر جمعیت علماء ہند کا باز آباد کاری مرہم ، مزید 66 خاندانوں کو فراہم کیا آشیانہ

    مظفرنگر فساد متاثرین کے زخموں پر جمعیت علماء ہند کا باز آباد کاری مرہم ، مزید 66 خاندانوں کو فراہم کیا آشیانہ

    صدر جمعیۃ علما ہند مولانا ارشدمدنی نے آج مظفر نگر فساد میں بے گھر ہوئے مزید 66 خاندانوں کو آشیانہ فراہم کرتے ہوئے باغونوالی ضلع مظفرنگر میں مکانات کی چابیاں ان کے حوالہ کیں ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : جمعیت علمائے ہند نے مظفرنگر فسادات متاثرین کے زخموں پر مرہم لگاتے ہوئے بازآبادکاری کے تحت سے متاثرین کو مکانات سپرد کیے ۔ صدر جمعیۃ علما ہند مولانا ارشدمدنی نے آج مظفر نگر فساد میں بے گھر ہوئے مزید 66 خاندانوں کو آشیانہ فراہم کرتے ہوئے باغونوالی ضلع مظفرنگر میں مکانات کی چابیاں ان کے حوالہ کیں ۔ قابل ذکر ہے کہ اس فساد میں ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے تھے اوران میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی ، جنہوں نے خوف ودہشت کے سبب واپس اپنے گھروں کو لوٹنے سے انکار کردیا تھا ۔ یہ لوگ اب تک مختلف جگہوں پرانتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں ۔

    قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل مختلف مقامات پر 311 مکانات ، مسجد اور مکتب کی تعمیر کرواکر متاثرین کو ان میں آباد کیا جا چکا ہے ۔ مولانا مدنی نے 28 مارچ 2019  کو 151 مکانوں پر مشتمل ایک اور مجوزہ جمعیۃ کالونی کا مظفرنگر کے باغونوالی گاؤں میں افتتاح کیا تھا، اس وقت ان میں سے تیارشدہ 85 مکانوں کی چابیاں متاثرین کے حوالہ کی جاچکی تھیں ۔ درمیان میں کورونا کی وجہ سے بازآبادکاری کا کام قدرے متاثررہا اور آج مولانا مدنی نے بقیہ 66 مکانوں کی چابیاں متاثرین کے حوالہ کیں ۔ ساتھ ہی اسی کالونی میں متاثرین کے بچوں کی دینی تربیت کے لئے مکتب اور پنج وقتہ نماز کے لئے ایک مسجد کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

    اس موقع پر مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ 27 اگست 2013ء میں اترپردیش کے شہر مظفرنگر میں جو فسادات ہوئے انہیں اس لئے بھی بدترین فسادات کی فہرست میں رکھا جاسکتا ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا کہ اپنی جان کے خوف سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے آبائی گھروں سے نقل مکانی کی ۔ انہوں نے آگے کہا کہ جب مظفرنگر میں فساد ہوا تو ریاست میں اکھلیش یادوکی سرکارتھی، ملک کی جمہوری تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ جب کسی سرکارنے فساد میں مارے گئے افراد کے اہل خانہ کو فی کس دس لاکھ روپے معاوضہ دیا اور ایسے تقریبا ڈھائی ہزار لوگوں کو جو راحتی کیمپوں میں رہ رہے تھے انہیں بھی فی کس پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ ریاستی سرکارسے ملا ۔

    مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علما ہند حالات کے ہرنازک موڑ پر ہمیشہ ملک کے مظلوموں سے قدم سے قدم ملاکر کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ جمعیۃ علماء ہند ایک مذہبی جماعت ہے لیکن یہ اکثریت اوراقلیت کے امتیاز سے بالاتر ہوکر انسانیت کی بنیاد پر خدمت کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے خوف وہراس کی وجہ سے اپنے گھروں کو جانے سے انکارکردیا تھا وہ لوگ روزگار سے بھی پریشان تھے اس لئے ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کے لئے شہر سے قریب مکانات بنائے جائیں تاکہ انہیں روزگار تلاش کرنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔

    مولانا مدنی نے کہا کہ 15 اگست کو ہم نے ملک کی آزادی کے پچھترسال پورا ہونے کا جشن روایتی جوش وخروش سے منایا ہے لیکن کیا یہ وہی آزادی ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا؟ نہیں یہ وہ آزادی ہرگز نہیں ہے جس کے لئے ہمارے اسلاف نے عظیم قربانیاں دیں ، یہاں تک کہ ہنستے ہنستے وہ پھانسی کے پھندے پر جھول گئے تھے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: