ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مظفر نگر فرقہ وارانہ فسادات معاملے میں بھڑکاؤ پوسٹ ڈالنے ملزم سنگیت سوم پر سے کیس ختم

2013 کے شاملی مظفّر نگر فرقہ وارانہ فسادات معاملے میں ملزم میرٹھ کی سردھنا سیٹ سے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم کے خلاف درج معاملوں کو ختم کر دیا ہے۔

  • Share this:
مظفر نگر فرقہ وارانہ فسادات معاملے میں بھڑکاؤ پوسٹ ڈالنے ملزم سنگیت سوم پر سے کیس ختم
2013 کے شاملی مظفّر نگر فرقہ وارانہ فسادات معاملے میں ملزم میرٹھ کی سردھنا سیٹ سے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم کے خلاف درج معاملوں کو ختم کر دیا ہے۔

2013 کے شاملی مظفّر نگر فرقہ وارانہ فسادات معاملے میں ملزم میرٹھ کی سردھنا سیٹ سے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم کے خلاف درج معاملوں کو ختم کر دیا ہے۔ فیس بک پر پوسٹ ڈال کر مذہبی جذبات بھڑکانے کے معاملے میں جانچ کر رہی ایس آی ٹی نے ثبوت نہ ملنے کا حوالہ دیکر ایف آر لگائی تھی جس پر اسپیشل کورٹ نے کلوزر ریورٹ کی منظوری دے دی ہے۔ وہیں سنگیت سوم پر درج معاملوں میں کلوزر ریورٹ داخل کیے جانے کو جمعیت علماء ہند نے پولیس اور ایس آی ٹی کی ناکامی قرار دیا ہے۔


جمعیت علماء کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ صوبے میں حکومت میں آنے کے بعد سے ہی بی جی پی نے فساد کے ملزمین پر سے مقدمے واپسی کی راہ ہموار کرنا شروع کر دی تھی۔ تاہم اب اس معاملے میں قانون کے ماہرین سے مشورہ کرکے آگے کی کارروائی کرنے کی چارہ جوئی کی جا رہی ہے۔ 2013 کے مظفر نگر شاملي فرقہ وارانہ فسادات معاملے میں بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم پر فساد بھڑکانے کے لئے فرضی ویڈیو فیس بک پر پوسٹ کرنے کا الزام ہے۔


مظفر نگر کے کوال قتل معاملے کے بعد سنگیت سوم نے افغانستان میں ہوئے تشدد کا ایک ویڈیو کوال قتل معاملے سے جوڑ کر پوسٹ کر دیا تھا جسکے بعد کہا جاتا ہے کہ علاقے کے ہندوؤں کے مذہبی جذبات بھڑک اٹھے اور پھر فرقہ وارانہ تشدد میں 60 سے زیادہ افراد کی جان چلی گئی اور ہزاروں بےگھر ہو گئے۔


 
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 11, 2021 01:39 PM IST