ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مایاوتی پر مقدمہ درج کراکر دياشنكر کی ماں نے کہا : ہم معذرت خواہ ہیں

پولیس سپرنٹنڈنٹ منوج کمار جھا نے بتایا کہ سنگھ کی گرفتاری کے لئے ان کے ممکنہ ٹھکانوں پر دبش دی جا رہی ہے، لیکن ان کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے

  • Pradesh18
  • Last Updated: Jul 22, 2016 05:42 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مایاوتی پر مقدمہ درج کراکر دياشنكر کی ماں نے کہا : ہم معذرت خواہ ہیں
پولیس سپرنٹنڈنٹ منوج کمار جھا نے بتایا کہ سنگھ کی گرفتاری کے لئے ان کے ممکنہ ٹھکانوں پر دبش دی جا رہی ہے، لیکن ان کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے

لکھنؤ: دياشنكر سنگھ کی ماں نے لکھنؤ کے حضرت گنج کوتوالی میں مایاوتی کے ساتھ ساتھ بی ایس پی لیڈر نسیم الدین صدیقی کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت میں لکھا کہ خاندان کو دھمکانے والے خواتین مخالف نعرے لگائے گئے۔ انہوں نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ، لیکن ہم پھر بھی معذرت خواہ ہیں۔

ادھر بہوجن سماج پارٹی صدر مایاوتی پر نازیبا تبصرہ کرنے کے ملزم بی جے پی کے سابق سینئر لیڈر دياشنكر سنگھ کی گرفتاری کے لئے 36 گھنٹے کا الٹی میٹم دئے جانے کے درمیان پولیس ان کا کوئی سراغ لگا نے میں اب تک ناکام ثابت ہورہی ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ منوج کمار جھا نے بتایا کہ سنگھ کی گرفتاری کے لئے ان کے ممکنہ ٹھکانوں پر دبش دی جا رہی ہے، لیکن ان کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

حالانکہ انہیں ذرائع سے پتہ لگا ہے کہ سنگھ کسی بھی وقت لکھنؤ کی عدالت میں خود سپردگی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سنگھ کے چھوٹے بھائی دھرمیندر سنگھ کو کل پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا تھا، لیکن پولیس کو سنگھ کے بارے میں کوئی بھی معلومات نہیں مل سکی۔ پوچھ گچھ میں دھرمیندر مسلسل یہی کہتے رہے ہیں کہ سنگھ 21 جولائی کو علی الصبح گورکھپور چلے گئے تھے۔ اس کے بعد ان کا سنگھ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

جھا نے بتایا کہ پولیس نے جمعرات کی رات بیريا میں واقع سنگھ کے ماما کے گھر پر بھی دبش دی تھی، لیکن کچھ ہاتھ نہیں لگا۔ سنگھ کا موبائل فون بھی 20 جولائی کی رات ایک بجے سے سوئچ آف ہے۔

First published: Jul 22, 2016 03:45 PM IST