ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سپریم کورٹ کے حکم پر اروناچل میں کانگریس کی حکومت بحال ، نبام تكی نے سنبھالا چارچ

نئی دہلی : بی جے پی اور مرکزی حکومت کو اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے اروناچل پردیش میں کانگریس کی حکومت بحال کرنے کا حکم دیا

  • Pradesh18
  • Last Updated: Jul 13, 2016 11:48 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سپریم کورٹ کے حکم پر اروناچل میں کانگریس کی حکومت بحال ، نبام تكی نے سنبھالا چارچ
نئی دہلی : بی جے پی اور مرکزی حکومت کو اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے اروناچل پردیش میں کانگریس کی حکومت بحال کرنے کا حکم دیا

نئی دہلی : بی جے پی اور مرکزی حکومت کو اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے اروناچل پردیش میں کانگریس کی حکومت بحال کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ سابقہ صورتحال بحال کی جانی چاہئے۔سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تكي نے بدھ کی رات دہلی میں اروناچل بھون میں وزیر اعلی کے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔

عدالت نے اروناچل پردیش کے گورنر کے جنوری کے تمام فیصلوں کو منسوخ کر دیا ، جس کے پیش نظر تكي حکومت گر گئی تھی اور کہا کہ یہ فیصلہ آئین کا '' خلاف ورزی '' کرنے والے تھے۔ پانچ ججوں کی بنچ کے ذریعہ اتفاق رائے سے دیے گئے فیصلے میں دیگر چیزوں کے علاوہ ریاست کے گورنر کے اس پیغام کو منسوخ کر دیاگیا ، جس میں اسمبلی کے چھٹے سیشن کی کارروائی کو 14 جنوری 2016 سے ایک ماہ قبل 16 سے 18 دسمبر 2015 کو بلائے جانے کی بات کہی گئی تھی۔

جسٹس جے ایس كھیهر کی قیادت والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے اپنے تاریخی فیصلے میں حکم دیا کہ اروناچل پردیش اسمبلی میں 15 دسمبر 2015 کی صورت حال قائم کی جائے۔

ادھر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر اعلی سطحی میٹنگ کے بعد اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے پی ٹی آئی سے کہا کہ عدالت کے فیصلہ کی تعمیل کی جائے گی اور گورنر تمام ضروری قدم اٹھائیں گے۔

First published: Jul 13, 2016 11:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading