ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پہلے بھی دو مرتبہ استعفی کی پیش کش کی تھی ، لیکن وزیر اعظم نے روک دیاتھا : نجیب جنگ

دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدہ سے استعفی دے چکے مسٹر نجیب جنگ نے کہا کہ وہ 2014 میں بھی استعفی دینا چاہتے تھے لیکن اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے ایسا کرنے سے روک دیا تھا

  • UNI
  • Last Updated: Dec 23, 2016 09:06 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پہلے بھی دو مرتبہ استعفی کی پیش کش کی تھی ، لیکن وزیر اعظم نے روک دیاتھا : نجیب جنگ
دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدہ سے استعفی دے چکے مسٹر نجیب جنگ نے کہا کہ وہ 2014 میں بھی استعفی دینا چاہتے تھے لیکن اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے ایسا کرنے سے روک دیا تھا

نئی دہلی: دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدہ سے استعفی دے چکے مسٹر نجیب جنگ نے کہا کہ وہ 2014 میں بھی استعفی دینا چاہتے تھے لیکن اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔ مسٹر جنگ نے کل اچانک استعفی دے دیا تھا۔ انہوں نے آج مسٹر مودی سے وزیر اعظم کے دفتر میں جاکر ملاقات بھی کی۔ اس سے پہلے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ان سے راج بھون میں ملاقات کی۔ لفٹننٹ گورنر کے عہدہ پر رہتے ہوئے مسٹر جنگ اور مسٹر کیجریوال کے درمیان اختیارات کے معاملے پر مسلسل کشیدگی رہی ہے۔

استعفی دینے پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مسٹر جنگ نے ایک نجی ٹیلی ویزن چینل سے بات چیت میں کاہ کہ میں نے پہلے بھی دو مرتبہ استعفی دینا چاہا لیکن مسٹر مودی نے ایسا نہیں کرنے اور عہدہ پر برقرار رہنے کی درخواست کی تھی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر کے طور پر کام کرتے ہوئے جولائی 2013میں لفٹننٹ گورنر بنائے گئے 66 سالہ مسٹر جنگ نے کہا کہ اس مرتبہ انہوں نے ذاتی اسباب کی بنا پر استعفی دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے استعفی کے پیچھے کوئی سیاسی وجہ نہیں ہے ۔ یہ فیصلہ میں نے پہلے ہی کرلیا تھا۔ استعفی کے سلسلے میں دباو کی افواہوں کو انہوں نے مسترد کردیا۔

آئی اے ایس افسر رہ چکے مسٹر جنگ نے کل استعفی دینے کے بعد تعلیمی شعبے میں واپس لوٹنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھا وہ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گذارنا چاہتے ہیں۔ ان کی مدت کار ابھی ڈیڑھ سال باقی ہے۔

مسٹر جنگ نے کہا کہ میری والدہ کی عمر 95 سال ہے ۔ انہیں وقت دینے کی ضرورت ہے۔ میں اپنے بچوں اور پوتوں کو وقت دینا چاہتا ہوں اوران کاموں کے لئے چھٹی نہیں لے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2014 میں جب مسٹر مودی کی قیادت میں مرکز میں حکومت بنی تھی تب پہلی بار انہوں نے استعفی دینے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔اس کے کچھ دنوں پہلے ہی مسٹر کیجریوال کی قیادت میں دہلی میں نئی حکومت قائم ہوئی تھی۔

مسٹر جنگ نے کہا کہ میری تقرری یو پی اے حکومت کے وقت ہوئی۔ مرکز میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد میں نے استعفی کی پیش کش کی تھی لیکن وزیر اعظم نے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔ تین سال بعد میں نے مسٹر مودی سے دوبارہ اپنے عہدہ سے سبکدوش کرنے کے لئے کہا لیکن انہوں نے عہدہ پر برقراررہنے کے لئے کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ساڑھے تین سال بعد منگل کو دوبارہ مسٹر مودی سے نجی اسباب کی بنا پر استعفی دینے کی خواہش ظاہر کی لیکن مسٹر مودی نے مجھے اس عہدہ پر برقرار رہنے کی درخواست کی۔ مسٹر جنگ نے کہا کہ اس مرتبہ میں نے استعفی دینے کا عزم کررکھا تھا۔

سابق بیوروکریٹ نے کہا کہ وہ اپنے تجربات کی بنیاد پر ایک کتاب لکھنا چاہتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کا الزام ہے کہ ان کے ذریعہ مرکزی حکومت دہلی سرکار پر کنٹرول رکھ رہی ہے ۔ مسٹر جنگ نے کہا کہ میں نے آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو ادا کیا۔ خیال رہے کہ مسٹر کیجریوال نے مسٹر جنگ کے استعفی پر حیرت کا اظہار کیا تھا جب کہ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ مرکز نے دباو ڈال کر مسٹر جنگ سے استعفی لیا ہے۔
First published: Dec 23, 2016 08:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading