ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

استعفی پر نجمہ ہیپت اللہ نے کہا : میں نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر دیا استعفی

نئي دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سینئر لیڈر محترمہ نجمہ ہیپت اللہ نے آج مرکزی کابینہ میں وزارت اقلیتی امور کے عہدے سے اپنے استعفی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چند ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفی دیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 13, 2016 12:14 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
استعفی پر نجمہ ہیپت اللہ نے کہا : میں نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر دیا استعفی
نئي دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سینئر لیڈر محترمہ نجمہ ہیپت اللہ نے آج مرکزی کابینہ میں وزارت اقلیتی امور کے عہدے سے اپنے استعفی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چند ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفی دیا ہے۔

نئي دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سینئر لیڈر محترمہ نجمہ ہیپت اللہ نے آج مرکزی کابینہ میں وزارت اقلیتی امور کے عہدے سے اپنے استعفی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چند ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفی دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی کابینہ میں مجھے خدمت کا موقع دیا، جہا انہیں کام کرنے کا کافی اچھا تجربہ ہوا۔

نجمہ ہیپت اللہ نے دعوی کیا کہ وزیر اعظم مودی نے انہیں جو ذمہ داری دی تھی، انہوں نے پوری ایمانداری اور محنت سے اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے مسٹر مودی کے پروگرام کوبخوبی آگے بڑھایا۔ نجمہ ہیپت اللہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی انہيں آئندہ جو بھی ذمہ داری سونپیں گے، وہ ا سے بھی پوری لگن اور ایمانداری سے ادا کریں گے اور پارٹی میں کسی بھی عہدے پر کام کرتے ہوئے انہیں خوشی ہوگی۔

خیال رہے کہ وزیر نجمہ ہپت اللہ کے مودی کابینہ سے استعفی کو صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے منظور بھی کرلیا ہے۔ ان کی جگہ پر اب مختار عباس نقوی کو صدر جمہوریہ نے آزادانہ طور پر اقلیتی امور کی وزارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے کہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ کچھ روز قبل ہی مودی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا گیا تھا اور 19 نئے وزاکو شامل کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں کئی لیڈروں کے محکمے بھی تبدیل کئے گئے تھے ، جن میں مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی اور پرکاش جاوڑیکر شامل ہیں ۔

First published: Jul 13, 2016 12:14 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading