உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مودی حکومت اقلیتوں اورمسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اورمعاشی بہبود کےتئیں پابند عہد: نجمہ

    نئی دہلی۔  مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی بہبود کے تئیں  پابند عہد ہے، جس پر ان کی وزارت تیز رفتار عمل کر رہی ہے۔

    نئی دہلی۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی بہبود کے تئیں پابند عہد ہے، جس پر ان کی وزارت تیز رفتار عمل کر رہی ہے۔

    نئی دہلی۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی بہبود کے تئیں پابند عہد ہے، جس پر ان کی وزارت تیز رفتار عمل کر رہی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی بہبود کے تئیں  پابند عہد ہے، جس پر ان کی وزارت تیز رفتار عمل کر رہی ہے۔ مرکزی وزیر نے  یہاں دہلی کے علما اور مساجد کے اماموں پر مشتمل ایک وفد سے ملاقات کے دوران ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزارت اقلیتی امور کے ذریعے چلائی جانے والی مختلف اسکیموں، نئی منزل، نئی روشنی، استاد، سیکھو اور سیکھاؤ کی افادیت و اہمیت اور اس کے نفاذ سے متعلق تفصیلات سے وفد کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت نے مدرسوں کے بچوں کے لئے نئی منزل پروگرام شروع کیا ہے، جس کے تحت مدارس میں زیر تعلیم بچوں کو ان کے تعلیمی نصاب میں کوئی تبدیلی کے بغیر اور ان کی پڑھائی کے اوقات میں تبدیلی کے بغیر انہیں تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی ہنر سیکھ کر روزگار حاصل کریں اور اپنے کنبے کی پرورش کے ساتھ ہی ملک کی ترقی میں بھی اپنا رول ادا کریں۔


      محترمہ نجمہ ہیپت اللہ نے کہا کہ مودی حکومت کے ایجنڈے میں تعلیم کا معاملہ سب سے اوپر ہے اس لئے ان کی وزارت طلبا اور خاص طور پر طالبات کی تعلیم پر زیادہ توجہ دے رہی ہے اور اقلیتوں اور مسلم بچوں کے لئے حکومت ہر سال 86 لاکھ اسکالر شپ دیتی ہے، جن میں 46 فی صد لڑکیاں اسکالر شپ حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔ اس دوران علما کے وفد نے محترمہ نجمہ ہیپت اللہ کو مسلم مسائل سے متعلق ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں سب کا ساتھ سب کا وکاس کے صحیح نفاذ، اس کے نفاذ کی نگرانی کے لئے نیشنل مائنارٹی کمیٹی بنانے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو درپیش خطرہ کے تحفظ کے مطالبات شامل ہیں۔


      محترمہ ہیپت اللہ نے وفد کو ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ محترمہ ہیپت اللہ سے ملاقات کرنے والے وفد میں جمعیتہ علما  ہند دہلی کے صدر مولانا عارف قاسمی، مولانا اعجاز ارشد قاسمی  اورمولانا یعقوب بجنوری وغیرہ شامل تھے۔

      First published: