ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اقلیتوں کی خود مختاری حکومت ہند کی ترجیح اوروزارت اقلیتی امورکا ویژن: نجمہ ہپت اللہ

نئی دہلی۔ حکومت ہند کی ترجیح اور وزارت اقلیتی امورکا ویژن یہ ہے کہ اقلیتوں کی اختیار سازی کی جائے اور قوم کے کثیر نسلی، کثیر ثقافتی اور کثیر لسانی کردار کو مضبوط بنانے کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 23, 2016 07:08 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اقلیتوں کی خود مختاری حکومت ہند کی ترجیح اوروزارت اقلیتی امورکا ویژن: نجمہ ہپت اللہ
نئی دہلی۔ حکومت ہند کی ترجیح اور وزارت اقلیتی امورکا ویژن یہ ہے کہ اقلیتوں کی اختیار سازی کی جائے اور قوم کے کثیر نسلی، کثیر ثقافتی اور کثیر لسانی کردار کو مضبوط بنانے کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔

نئی دہلی۔ حکومت ہند کی ترجیح اور وزارت اقلیتی امورکا ویژن یہ ہے کہ اقلیتوں کی اختیار سازی کی جائے اور قوم کے کثیر نسلی، کثیر ثقافتی اور کثیر لسانی کردار کو مضبوط بنانے کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔ ہمارا مشن ہے کہ مثبت اقدامات کے ذریعے اقلیتی فرقوں کی سماجی اور معاشی حالت کو بہتر بنایا جائے اور بحیثیت مجموعی ان کی اختیار سازی کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے آج ’’اقلیتوں کی معاشی اختیار سازی‘‘کے موضوع پر اپنے لکچر میں کیا۔


انہوں نے کہا کہ ہندستان جیسے ملک میں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے، مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف نسلوں کے لوگ باہم مل جل کر رہتے ہیں، لازم ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں اپنے عوام کو شامل کریں تاکہ صحیح معنوں میں ایک سب کی شمولیت والا معاشرہ بن سکے۔ ہماری رنگا رنگ قوم اسی وقت پھلے پھولے گی جب ہماری اقلیتیں ترقی کے عمل میں سرگرمی کے ساتھ شامل ہوسکیں اور اس طرح اس عمل کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ وہ اس سے استفادہ بھی کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی بامعنی معاشی اختیار سازی کو یقینی بنانے کے لیے ان کو تعلیمی اعتبار سے با اختیار بنانا کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔’’ہماری نجات اسی میں ہے کہ ہم ایسی مضبوط علمی معیشتیں قائم کرلیں جو اطلاعاتی ٹیکنالوجی، اختراع اور تعلیم سے تقویت یافتہ ہوں۔ سماجی اور معاشی تبدیلی کے لیے تعلیم ہی واحد ایسا وسیلہ ہے جو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے‘‘۔ ایک اچھی تعلیم یافتہ آبادی جومعلومات اور ہنر سے مناسب طور پر آراستہ ہو نہ صرف معاشی نمو کے لیے لازمی بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نشوونما کے عمل میں سب کو شریک بنانے کے لیے بھی ضروری ہے کیونکہ ایک تعلیم یافتہ اور ہنر مند انسان ہی نشوونما کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ملازمت کے مواقعوں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا اہل ہوسکتا ہے۔


یہ بتاتے ہوئے کہ وزارت اقلیتی امور نے اقلیتی فرقوں کی تعلیمی اور معاشی اختیار سازی کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ محترمہ نے کہا کہ مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن، جس کا کارپس اس وقت 1136 کروڑ روپے ہے، صرف گیارہویں اور بارہویں کلاس کی لڑکیوں کو اسکالر شپس دیتا ہے اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بنیادی تعلیمی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے مالی امداد دیتا ہے۔ ’’اسکل انڈیا‘‘ اور ’’میک ان انڈیا‘‘ پروگراموں کے لیے سرکار کی ترجیح کے مطابق اور معیشت میں اقلیتوں کے کاریگروں کی شرکت کی شرح کو بہتر بنانے کے لیے اقلیتوں کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ کے صرفے کو بڑھایاگیا ہے۔


نئی منزل‘‘کو درمیان میں پڑھائی ادھوری چھوڑدینے والوں اور مدرسے کو طالب علموں کے تعلیم اور روزگار کی ایک مربوط پہل بتاتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ اسے ان اقلیتی نوجوانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے جن کے پاس اسکول چھوڑنے کا کوئی رسمی سر ٹیفکیٹ نہیں ہے تاکہ انہیں منظم زمرے میں بہتر ملازمت کے حصول کے قابل بنا کر بہتر زندگی گزارنے کے لیے آراستہ کیا جاسکے۔ اس اسکیم سے مدرسے کے طالب علموں کے لیے بھی مواقع کے دروازے کھل جائیں گے۔یہ اسکیم پانچ سال کے لیے 650 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کی گئی ہے اور اس کا 50% فنڈ عالمی بینک سے آئے گا۔

First published: Mar 23, 2016 06:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading