உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دیگر مذاہب کے مابین مصالحت ، ان کی قبولیت اور تکثیریت کی پابندی عہد ہندوستانیوں کا طرز حیات:نجمہ

    نئی دہلی۔ اقلیتی بہبود کی مرکزی وزیر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے ایجوکیشن انڈاومنٹ ٹرسٹ ( ای ای ٹی )کے زیر اہتمام تال کٹورہ اسٹیڈیم میں منعقد انٹرنیشنل فیسٹیول آف لینگویج اینڈ کلچر(آئی ایف سی ایل ) کے 14ویں کانفرنس میں کہا کہ ای ای ٹی جو کارہائے نمایاں انجام دے رہا ہے وہ وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرنے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے اور اس کی جتنی بھی ستائش کی جا ئے وہ کم ہے۔

    نئی دہلی۔ اقلیتی بہبود کی مرکزی وزیر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے ایجوکیشن انڈاومنٹ ٹرسٹ ( ای ای ٹی )کے زیر اہتمام تال کٹورہ اسٹیڈیم میں منعقد انٹرنیشنل فیسٹیول آف لینگویج اینڈ کلچر(آئی ایف سی ایل ) کے 14ویں کانفرنس میں کہا کہ ای ای ٹی جو کارہائے نمایاں انجام دے رہا ہے وہ وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرنے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے اور اس کی جتنی بھی ستائش کی جا ئے وہ کم ہے۔

    نئی دہلی۔ اقلیتی بہبود کی مرکزی وزیر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے ایجوکیشن انڈاومنٹ ٹرسٹ ( ای ای ٹی )کے زیر اہتمام تال کٹورہ اسٹیڈیم میں منعقد انٹرنیشنل فیسٹیول آف لینگویج اینڈ کلچر(آئی ایف سی ایل ) کے 14ویں کانفرنس میں کہا کہ ای ای ٹی جو کارہائے نمایاں انجام دے رہا ہے وہ وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرنے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے اور اس کی جتنی بھی ستائش کی جا ئے وہ کم ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ اقلیتی بہبود کی مرکزی وزیر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے ایجوکیشن انڈاومنٹ ٹرسٹ ( ای ای ٹی )کے زیر اہتمام تال کٹورہ اسٹیڈیم میں منعقد انٹرنیشنل فیسٹیول آف لینگویج اینڈ کلچر(آئی ایف سی ایل ) کے 14ویں کانفرنس میں کہا کہ ای ای ٹی جو کارہائے نمایاں انجام دے رہا ہے وہ وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرنے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے اور اس کی جتنی بھی ستائش کی جا ئے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک چیری ٹیبل ٹرسٹ ہے اوریہ ٹرسٹ پورے ہندوستان میں واقع اپنے مختلف اسکولوں کے ذریعے طالب علموں کو عالمی معیار ی تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے۔ یہ بہت حوصلہ افزا بات ہے کہ آئی ایف سی ایل گزشتہ 14 برسوں سے منعقد کیا جارہا ہے جس میں مختلف ممالک کے طلبا شریک ہوتے ہیں۔ یہ بہت فخر کی بات ہے کہ اس برس یہ’’وسودھیو کٹمب کم‘‘ کے فلسفے کے ساتھ ہندوستان میں منعقد کیا جارہا ہے۔


      مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب ہمیشہ سے کثیر نسلی، کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی رہی ہے۔دوسرے مذاہب کے ساتھ مصالحت اور ان کی قبولیت اور تکثیریت کی پابندی عہد ہندوستانیوں کا طرز حیات رہا ہے۔ ’’وسو دیو کٹمب کم‘‘ جس کا مطلب ہے کہ دنیا ایک خاندان ہے، سب کو شامل کرنے والے ہندوستان کے مخصوص مزاج میں مضبوطی کے ساتھ پیوست ہے۔اپنے تنوع کی بدولت ہندوستان بذاتِ خود ایک جہان سے کم نہیں ہے۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے اپنے پرنانا مولانا ابوالکلام آزاد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے، جو تحریک آزادی کے معماروں میں سے تھے، کہا تھا، ’’دوسری قوموں کو اپنا نقطۂ نظر بدلنے کے لیے نئے سبق سیکھنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔


      محترمہ ہپت اللہ نے زور دے کر کہا کہ عالمی سماج کو آئین ہند کے اس رمز کو سمجھنا چاہیے اور ہمیں اقوام متحدہ اور ایسی متعدد دیگر کثیر فریقی تنظیموں کو مضبوط بنانے کے لیے پہل کرنی چاہیے تاکہ تمام دنیا ایک ہی ملک بن جائے اور تمام انسان اس کے باشندے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، امن کی شروعات انفرادی سطح پر ہونی چاہیے۔‘‘ پیرس میں یونیسکو کے ہیڈ کوارٹر میں نصب ایک تختی پر ایک قول لکھا ہے جو ہمیں بتاتا ہے:’’چونکہ جنگوں کا آغازانسان کے ذہن میں ہوتا ہے، امن کے دفاع کے لیے تدابیر بھی انسان کے دماغ میں ہی تخلیق ہونی چاہئیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کے ذہنوں میں باہمی محبت، حمایت اور ہمدردی کی ا قدار ڈال کر ہی ہم آنے والی نسلوں کے لیے پائدار امن قائم کرنے کی امید کرسکتے ہیں اور ہم ہزاروں سال سے اس پر ثابت قدم ہیں۔‘‘

      First published: