உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عوامی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والے لوگ قابل تقلید: نجمہ ہپت اللہ

    نئی دہلی۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے عوامی بہبود کے لئے کام کرنے والے لوگوں خاص طور پراس شعبہ میں خواتین کے گراں قدر رول کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے سماج کے لئے قابل تقلید ہیں۔

    نئی دہلی۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے عوامی بہبود کے لئے کام کرنے والے لوگوں خاص طور پراس شعبہ میں خواتین کے گراں قدر رول کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے سماج کے لئے قابل تقلید ہیں۔

    نئی دہلی۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے عوامی بہبود کے لئے کام کرنے والے لوگوں خاص طور پراس شعبہ میں خواتین کے گراں قدر رول کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے سماج کے لئے قابل تقلید ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے عوامی بہبود کے لئے کام کرنے والے لوگوں خاص طور پراس شعبہ میں خواتین کے گراں قدر رول کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے سماج کے لئے قابل تقلید ہیں۔مرکزی وزیر نے یہاں منعقدہ ’جذبہ، کے موضوع پر منعقدہ ایک کلچرل پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں کہا کہ سماجی بہبود کے لئے کام کرنے والے لوگوں سے مل کر انہیں خوشی حاصل ہوتی ہے‘ خاص طو رپر ایسی خواتین کو دیکھ کر انہیں کافی حوصلہ ملتا ہے جو سماجی بہبود کے کاموں میں سرگرم رول ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے ان خواتین کی ستائش کی جنہوں نے زمانے کے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کی بہبود کے لئے اپنی زندگی وقف کردی او ربالآخر انہوں نے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی۔ محترمہ ہپت اللہ نے کہا کہ آج کے زمانے کی خواتین نے اپنی محنت اور لگن سے زندگی کے تمام شعبوں میں خود کو ثابت کیا ہے جو قابل تعریف بات ہے۔


      اس دوران انہوں نے سائرہ سروہی کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جو قومی سطح کی پیراک، ایک ہونہار اور باصلاحیت انسان اور باصلاحیت اسٹار تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بے وقت اور المناک موت سے ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جسے پُر کرنا مشکل ہے۔ان کے لیے ہمیشہ ہمارے دلوں میں جگہ رہے گی اور انہیں فخر ہندوستان کے طور پر یاد کیا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مستقل ترقی کی حصولیابی کے لیے تعلیم، صحت اورسماجی ترقی بہت اہمیت رکھتی ہے اور ہمیں ان پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ہمیں سب سے زیادہ غیر محفوظ بچوں کو تعلیم اور ہنر سے آراستہ کرکے اور انہیں تشدد اور استحصال سے بچاکر ان کی مدد اور انہیں بااختیار بنانا چاہیے۔ تعلیم کے توسط سے ہم ان بچوں کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھ سکتے ہیں اور ان کے خیالات اور ان کی زندگیوں میں واضح تبدیلیاں لاسکتے ہیں اور امید کرسکتے ہیں کہ ایک دن وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں گے، خود کفیل بن سکیں گے اور عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں گے۔

      First published: