உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Namaz vs Sundarkand: لکھنؤ میں نماز بمقابلہ سندر کنڈ کا تنازعہ موضوع بحث، سیکشن 144 نافذ، پولیس اہلکار تعینات

    جس پر دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

    جس پر دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

    دریں اثنا ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے مال کے اندر سندرکنڈ پڑھنے کی کوشش کرنے کے الزام میں تین افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔ رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہیں مال کے داخلی دروازے پر رکھا گیا اور ان کا تعلق ہندو سماج پارٹی سے بتایا گیا۔

    • Share this:
      لکھنؤ میں 'نماز بمقابلہ سندرکنڈ' (Namaz vs Sundarkand) کا تنازعہ ہفتہ کے روز اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پولیس نے نامعلوم لوگوں کے ایک گروپ کے خلاف ایف آئی آر درج کی جنہوں نے مبینہ طور پر یہاں کھولے گئے لولو مال (Lulu Mall) میں نماز ادا کی تھی۔ اسی دوران ایک دائیں بازو کی ہندو تنظیم نے اس پر اعتراض کیا اور اجازت طلب کی کہ انھیں بھی ہندو مذہبی عبادت کی اجازت دی جائے۔ ان پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

      نیوز 18 ڈاٹ کام کے مطابق ہفتہ کے روز حالات پر سکون نہیں ہیں کیونکہ لولو مال سے متصل علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی اور پولیس کو تعینات کیا گیا کیونکہ ہندو تنظیم 'کرنی سینا' نے کہا کہ وہ وہاں سندرکنڈ کو پڑھتے ہوئے مال کی طرف مارچ کر رہی ہے۔
      پہلے درج کیا گیا کیس لولو مال کے نمائندوں کی شکایت پر کیا گیا تھا، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے لوگ ان کے عملے کے ممبر نہیں تھے۔ مال کے حکام نے جمعہ کے روز جائیداد پر نوٹس بھی لگا دیا ہے جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ "مال میں کسی بھی مذہبی عبادت کی اجازت نہیں ہوگی۔

      ڈپٹی کمشنر آف پولیس (جنوبی) گوپال کرشنا چودھری نے کہا کہ آئی پی سی سیکشن 153-اے (مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) اور 295-اے (مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایکٹ) کے تحت جمعرات کو نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

      دریں اثنا ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے مال کے اندر سندرکنڈ پڑھنے کی کوشش کرنے کے الزام میں تین افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔ رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہیں مال کے داخلی دروازے پر رکھا گیا اور ان کا تعلق ہندو سماج پارٹی سے بتایا گیا۔

      اس مال کا افتتاح اتوار کو اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ (Yogi Adityanath) نے کیا تھا اور اسے ابوظہبی میں قائم لولو گروپ نے کھولا ہے، جس کی قیادت ہندوستانی نژاد ارب پتی یوسف علی ایم اے (Yussuf Ali M A) کر رہے ہیں۔

      سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو جس میں لوگوں کے ایک گروپ کو مال کے اندرونی حصہ میں کھلی جگہ پر نماز ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس پر دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مال میں دوبارہ نماز پڑھی گئی تو وہ اس کے خلاف ’ہنومان چالیسہ‘ پڑھ کر احتجاج کرے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:


      اس حوالے سے جاری بیان میں تنظیم نے ہندو برادری سے مال کا بائیکاٹ کرنے کا بھی کہا۔ ہندو تنظیم نے مزید کہا ہے کہ مال کے کھلنے کے بعد سے مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ وہاں ’لو جہاد‘ کو فروغ دیا جاتا ہے اور مزید کہا کہ مال کے ملازمین میں سے 80 فیصد کا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے جبکہ باقی 20 فیصد ہندو لڑکیاں ہیں تاکہ لو جہاد شروع کیا جا سکے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: