உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مختار عباس نقوی کی اے ایم یو طلبہ سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل

    اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی: فائل فوٹو۔

    اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی: فائل فوٹو۔

    نئی دہلی۔ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کی طرف سے جاری دھرنا کے درمیان آج طلبہ اور انتظامیہ سے اس یونیورسٹی کے وقارکا خیال رکھتے ہوئے تنازعہ کو ختم کردینے کی اپیل کی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کی طرف سے جاری دھرنا کے درمیان آج طلبہ اور انتظامیہ سے اس یونیورسٹی کے وقارکا خیال رکھتے ہوئے تنازعہ کو ختم کردینے کی اپیل کی۔ نقوی نے آج یہاں قومی وقف کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ اور انتظامیہ سے میری درخواست ہے کہ وہ اس بلاوجہ تنازعہ کو ختم کردیں کیوں کہ جناح نہ تو ملک کا آدرش ہے اور نہ دیش واسیوں کا اور نہ ہی مسلمانوں کا۔‘‘


      انہوں نے مزید کہا کہ اے ایم یو کے طلبہ سے میری درخواست ہے کہ وہ اس تنازعہ کو ختم کردیں اور سب کو اس یونیورسٹی کے وقار کا احترام کرنا چاہئے۔ خیال رہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے اسٹوڈنٹس یونین ہال سے بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویرکے تنازع پر آج بھی طلبہ یونین اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان کوئی مفاہمت نہیں ہو سکی اور طلبہ کا دھرنا جاری ہے۔علی گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ چندربھوشن سنگھ اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ اتل شریواستو کا کہنا ہے کہ طلبہ یونین سے بات چیت کی جا رہی ہے اور اے ایم یو انتظامیہ کی طرف سے ہندو جاگرن منچ کے کارکنوں کے خلاف درج کرائی گئی رپورٹ کے تحت منچ کے امت گوسوامی اور یوگیش وارشنی کوکل گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔


      اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر مشکور احمد عثمانی نے تاہم کہا ہے کہ صرف دو لوگوں کی گرفتاری سے بات نہیں بنے گی۔ انہوں نے علی گڑھ کے ممبر پارلیمنٹ ستیش گوتم کو قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ دریں اثنا یونیورسٹی انتظامیہ نے سات مئی سے شروع ہونے والے امتحانات 12 مئی تک ملتوی کردئے ہیں۔

      First published: