உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    EXCLUSIVE: تازہ سروے میں بڑا انکشاف! 52,000 سے زیادہ کشمیری منشیات کے عادی! 95 فیصد ہیروئن میں ملوث

    تصویر: @narcoticsbureau

    تصویر: @narcoticsbureau

    مطالعہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کشمیر کے ہر ضلع میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نفسیاتی مادہ اوپیئڈز ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اوسطاً ایک صارف ہیروئن کی خریداری کے لیے تقریباً 88,000 روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے۔

    • Share this:
      ریاستی حکومت کی طرف سے کئے گئے ایک تازہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر کی کل آبادی کا کم از کم 2.8 فیصد آبادی منشیات استعمال کرتی ہے، جن میں سے 52,404 فی الحال نقصاندہ منشیات پر منحصر ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات پر انحصار کرنے والوں میں سے تقریباً 95 فیصد ہیروئن استعمال کرنے والے ہیں۔ سروے میں کشمیر میں ہیروئن کے استعمال کی اوسط عمر 22 سال بتائی گئی ہے۔

      یہ سروے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (آئی ایم ایچ این ایس) گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر نے سماجی بہبود کے محکمے اور ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ کے اشتراک سے کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کشمیر کے تمام 10 اضلاع میں منشیات کے استعمال سے متعلق پہلا سروے ہے۔

      CNN-News18 نے اس رپورٹ کے نتائج تک رسائی حاصل کی ہے جسے ابھی عام نہیں کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر کی کل آبادی کا کم از کم 2.8 فیصد منشیات استعمال کرنے والے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان بہت سے افراد نے ماضی یا حال میں منشیات کا استعمال کیا ہے، لیکن یہ منشیات پر انحصار کرنے والوں کے زمرے میں نہیں آتے۔

      سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مادہ کا استعمال زیادہ تر بے روزگار آبادی میں دیکھا گیا، جو کشمیر کے 10 اضلاع میں کل آبادی کا 25.2 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔ کشمیریوں میں ہیروئن کے استعمال کرنے والوں کی اوسط عمر 22 سال ہے، جب کہ 28 سال کی اوسط عمر والے نوجوانوں میں منشیات کا استعمال زیادہ ہے۔

      مطالعہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کشمیر کے ہر ضلع میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نفسیاتی مادہ اوپیئڈز ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اوسطاً ایک صارف ہیروئن کی خریداری کے لیے تقریباً 88,000 روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے۔


      ایک سینئر سرکاری افسر نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، انھوں نے کہا کہ سروے ایک وسیع مشق تھی۔ جبکہ سماجی بہبود کے محکمے نے IMHNS کو نشا مکت اسکیم کے تحت سروے کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کی، جب کہ ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ نے لاجسٹک مدد فراہم کی۔ یہ سروے صوبہ کشمیر کے بیشتر ضلعی ہسپتالوں میں نشے کے علاج کے دوران کیا گیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: