اپنا ضلع منتخب کریں۔

    مہاتما گاندھی بھی آرایس ایس کے پروگرام میں شامل ہوئے تھے: پرچارک نریندر سہگل کا دعوی

    سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے آرایس ایس ہیڈ کوارٹر جانے کی خبروں کے درمیان ہورہی تنقید پر آرایس ایس پرچارک رہ چکے صحافی اور رائٹر نریندر سہگل نے دعوی کیا ہے کہ مہاتما گاندھی 1934 میں آرایس ایس کے ایک پروگرام میں وردھا آئے تھے۔

    سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے آرایس ایس ہیڈ کوارٹر جانے کی خبروں کے درمیان ہورہی تنقید پر آرایس ایس پرچارک رہ چکے صحافی اور رائٹر نریندر سہگل نے دعوی کیا ہے کہ مہاتما گاندھی 1934 میں آرایس ایس کے ایک پروگرام میں وردھا آئے تھے۔

    سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے آرایس ایس ہیڈ کوارٹر جانے کی خبروں کے درمیان ہورہی تنقید پر آرایس ایس پرچارک رہ چکے صحافی اور رائٹر نریندر سہگل نے دعوی کیا ہے کہ مہاتما گاندھی 1934 میں آرایس ایس کے ایک پروگرام میں وردھا آئے تھے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: 7 جون کو ناگپور میں ہونے والے راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کے پروگرام میں صابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کریں گے۔ اس موقع پر وہ وہاں آرایسایس کے لیڈران اور ممبران کوخطاب کریں گے۔ پرنب دا کا پس منظر ایک کانگریسی لیڈر کا رہا ہے۔ اس لئے ان کا آرایس ایس کے پروگرام میں جانا کانگریس سمیت کئی پارٹیوں کو پسند نہیں آرہا ہے۔

      پرنب مکھرجی کے دورہ کو لے کر کئی لوگوں نے تبصرہ کیا ہے۔ اس درمیان آرایس ایس پرچارک رہ چکے صحافی اور رائٹر نریندر سہگل نے دعوی کیا ہے کہ مہاتما گاندھی 1934 میں آرایس ایس کے ایک پروگرام میں وردھا آئے تھے۔

      نیوز18 سے بات چیت میں سہگل نے کہا کہ آرایس ایس کے پروگراموں میں مدن موہن مالویہ آئے تھے۔ سبھاش چندر بوس نے  1938 یا 1939 میں ناگپور میں پتھ تحریک دیکھی تھی۔ آرایس ایس کی دعوت پر اب پرنب مکھرجی آرہے ہیں۔ آرایس ایس کی پالیسی رہی ہے ہم آہنگی، رابطہ اور بات چیت۔ یہ ہندوستانی ثقافت ہے. لوگ آرایس ایس میں آتے رہتے ہیں اور ان  سے گفتگو کرتے ہیں۔

      ہندوستانی تحریک آزادی میں آرایس ایس کے کردار پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان سہگل کی لکھی گئی کتاب "بھارت وش کی سروانگ سوتنرتا" اور ان کے بیان سرخیوں میں آگئے ہیں۔ سہگل کا دعوی ہے کہ کانگریس کی طرح ہی آرایس ایس کا بھی جنگ آزادی میں تعاون رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس سے منسلک تاریخ ایک خاندان کو دیکھتے ہوئے یکطرفہ لکھا گیا ہے۔

       

       

      طویل وقت سے ان الزامات سے جدوجہد کررہا ہے کہ جنگ آزادی میں اس کا کوئی رول نہیں تھا۔ پنجاب میں آرایس ایس کےپرچارک رہ چکے سہگل نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا کہ جنگ آزادی میں آرایس ایس کا تعاون کانگریس سے زیادہ ہے۔ ایسا میں نے نہیں کہا، میں نے کہا کہ کانگریس کی طرح ہمارا بھی تعاون ہے۔ میں نے اپنی کتاب میں ثبوتوں کے ساتھ بتایا ہے کہ آرایس ایس کا تعاون رہا ہے۔

      سہگل نے کہا کہ آرایس ایس اپنے نام سے کچھ نہیں کرتا تھا۔ اپنے نام اور ادارے کے نام سے اوپر اٹھ کر ملک کے مفاد میں آزادی سے جڑےکانگریس کے سبھی تحریک میں آرایس ایس کےکارکنان نے حصہ لیاہے۔ آرایس ایس کے بانی ڈاکٹر کیشو بلیرام ہیڈگوار خود دوبار سال سال بھر کے لئے جیل میں رہے ہیں۔ پورے ستیہ گرہ کے اندر آرایس ایس کے 16 ہزار کارکن جیل میں تھے۔ 1942کے موومنٹ میں ہمارا سب سے زیادہ حصہ تھا، لیکن آرایس ایس کےنام سے نہیں تھا۔ آرایس ایس تو آج بھی اپنے نام سے کچھ نہیں کرتا ہے، وہ تو آج بھی وشو ہندو پریشد، مزدور سنگھ، بھارتیہ جنتا پارٹی اور ونواسی کلیان آشرم کے نام سے کام کرتا ہے۔

       

      اوم پرکاش کی رپورٹ

       
      First published: