ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نسیم الدین صدیقی کانگریس کا دامن تھامنے کے لئے اپنے حامیوں کے ساتھ پہنچے دلی

لکھنئو۔ نسیم الدین صدیقی جو کبھی بی ایس پی سربراہ مایاوتی کا دایاں ہاتھ ہوا کرتے تھے، جمعرات کو راہل گاندھی کی موجودگی میں کانگریس کا دامن تھامیں گے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نسیم الدین صدیقی کانگریس کا دامن تھامنے کے لئے اپنے حامیوں کے ساتھ پہنچے دلی
نسیم الدین صدیقی: فائل فوٹو

لکھنئو۔ نسیم الدین صدیقی جو کبھی بی ایس پی سربراہ مایاوتی کا دایاں ہاتھ ہوا کرتے تھے، جمعرات کو راہل گاندھی کی موجودگی میں کانگریس کا دامن تھامیں گے۔ ان  کے ساتھ  تین سابق وزراء، چار سابق ارکان ​​پارلیمنٹ، تین سے چار درجن سابق ایم ایل ایز کے بھی شامل ہونے کا امکان ہے۔ کانگریس میں شمولیت کے سوال پر نسیم الدین صدیقی نے کہا کہ کانگریس ہی ملک کو ترقی دلا سکتی ہے۔ بتا دیں کہ بی ایس پی کا سب سے بڑا مسلم چہرہ رہے نسیم الدین صدیقی کی کبھی پارٹی میں طوطی بولتی تھی۔ لیکن پچھلے سال مایاوتی نے پیسوں کے لین دین میں گھپلوں کے الزام میں انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔ اس کے بعد نسیم الدین نے مایاوتی پر پیسے وصول کرنے کا سنگین الزام لگاتے ہوئے کئی آڈیو ٹیپ بھی جاری کئے تھے۔


فی الحال کانگریس کا دامن تھامنے کے لئے نسیم الدین صدیقی اپنے حامیوں کے ساتھ دلی پہنچ چکے ہیں۔ کانگریس کے مطابق، 28 دسمبر کو راہل گاندھی کی صدیقی سے ملاقات ہوئی تھی۔ جنوری میں ہوئی دوسری میٹنگ کے بعد بات آگے بڑھی۔ اس دوران یو پی کانگریس انچارج غلام نبی آزاد اور ریاست کے صدر راج ببر نے زمینی سطح پر پوری تیاری کر لی۔ گزشتہ اتوار کو راہل کی نسیم الدین صدیقی سے ملاقات کے بعد یہ معاملہ آگے بڑھا۔


اتوار کو ہونے والی میٹنگ میں راہل گاندھی اور نسیم الدین نے آگے کی حکمت عملی اور شامل ہونے کے عمل کو حتمی شکل دی۔


غور طلب ہے کہ صدیقی مغربی اترپردیش اور اتراکھنڈ اسمبلی انتخابات اور 2014 لوک سبھا کے انتخابات میں بی ایس پی کے انچارج تھے۔ صدیقی اترپردیش کے بندیل کھنڈ علاقے کے باندا ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ خود کو پارٹی کا مسلم چہرہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے۔ وہ مایاوتی کی چاروں مدت کار میں وزیر رہے۔ اخراج کے بعد صدیقی نے راشٹریہ بہوجن مورچہ قائم کیا تھا۔
First published: Feb 22, 2018 12:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading