உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    قومی اقلیتی کمیشن کو نیا چیئرمین ملنے میں لگے گا مزید وقت ، جانئے ہائی کورٹ نے کیا کہا

    قومی اقلیتی کمیشن کو نیا چیئرمین ملنے میں لگے گا مزید وقت ، جانئے ہائی کورٹ نے کیا کہا

    قومی اقلیتی کمیشن کو نیا چیئرمین ملنے میں لگے گا مزید وقت ، جانئے ہائی کورٹ نے کیا کہا

    سابق چیئرمین غیور الحسن رضوی کو مدت کار پوری کئے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ سابق چیئرمین غیور الحسن رضوی اور ان کے چار ممبرز کی مدت کار 25 مئی 2020 کو پوری ہو گئی تھی ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : قومی اقلیتی کمیشن کو ابھی نیا چیئرمین ملنے میں مزید وقت لگنے والا ہے جو کہ مرکزی حکومت کی طرف سے مزید وقت طلب کیا گیا ہے ۔ حالانکہ سابق چیئرمین غیور الحسن رضوی کو مدت کار پوری کئے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ سابق چیئرمین غیور الحسن رضوی اور ان کے چار ممبرز کی مدت کار 25 مئی 2020 کو پوری ہو گئی تھی ۔ جبکہ پانچویں ممبر کی مدت کار 24 اکتوبر کو پوری ہوگئی موجودہ وقت میں صرف مسلم اقلیت کی جانب سے نمائندگی ہو رہی ہے اور عاطف رشید نائب چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ عبوری چیئرمین کی بھی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں ۔

    اس درمیان اس معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ میں چل رہی سماعت کے دوران مرکز کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا کہ قومی اقلیتی کمیشن کی تمام خالی آسامیاں 30 ستمبر تک پُر کریں ۔ دہلی ہائی کورٹ نے قومی اقلیتی کمیشن میں تمام خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے مرکز کو دی گئی مہلت میں مزید دو ماہ کی توسیع کردی ہے۔  ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ یہ عمل 30 ستمبر تک مکمل کیا جائے۔

    اس سے قبل 31 جولائی تک عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔  مرکز نے ایک درخواست دائر کی تھی ، جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ قومی اقلیتی کمیشن کے اسامیاں بھرنے کے لیے اسے مزید وقت دیا جائے اور اور مہلت کے طور پر تین ماہ کی توسیع کی جائے۔ اس کے بعد عدالت نے اس وقت کی حد کو مزید دو ماہ تک بڑھانے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ وقت میں توسیع کی درخواست منظور ہے اور اس میں 30 ستمبر تک توسیع کی گئی ہے۔

    اس سے پہلے آخری تاریخ 31 جولائی تک تھی ۔ کیس کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے پہلے ہدایت دی تھی کہ تمام خالی اسامیوں کو 31 جولائی تک نامزد کیا جائے ۔ تاکہ کمیشن کا کام کاج آسانی سے جاری رہے۔  مرکز نے ملک میں کووڈ 19 کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اپریل اور مئی کے مہینوں میں وقت کی مدت میں توسیع پر زور دیا۔

    عرضی گزار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ اگر مرکز کو حکم کی تعمیل کے لیے معقول توسیع دی گئی تو وہ مخالفت نہیں کریں گے۔  ابھے رتن بودھ کی طرف سے دہلی ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2020 سے صرف وائس چیئرمین کمیشن کا کام سنبھال رہے ہیں، جبکہ بقیہ عہدے بشمول چیئرمین اور ارکان بشمول بدھ ، عیسائی ، پارسی ، سکھ اور جین اقلیتی برادری ، خالی ہیں۔

    عرضی میں کہا گیا کہ اسامیاں اپریل 2020 سے خالی ہونی شروع ہوئیں اور متعلقہ وزارت کے نوٹس میں معاملہ لانے کے باوجود کچھ نہیں کیا گیا ۔ مرکز نے عدالت کو بتایا تھا کہ کووڈ 19 وبائی امراض کے دوران اسامیاں خالی تھیں ورنہ کمیشن مؤثر طریقے سے کام کر رہا تھا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: