உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بی جے پی اپنے فائدے کیلئے ریاست میں آگ لگانے پرآمادہ ہے: نیشنل کانفرنس کا الزام

    نیشنل کانفرنس لیڈر ایڈوکیٹ علی محمد ساگر: فائل فوٹو

    نیشنل کانفرنس لیڈر ایڈوکیٹ علی محمد ساگر: فائل فوٹو

    نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ علی محمد ساگر نے کہا کہ فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت پھیلا کراپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا بی جے پی کا پُرانا شیوا رہا ہے اوریہ جماعت اس وقت بھی اپنے فوائد کےلئے ریاست میں آگ لگانے پر تلی ہوئی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      سری نگر: نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ جموں وکشمیرسے متعلق بی جے پی کے مکروہ عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ریاستی عوام کو متحد ہونے کی ضرورت ہے اورایسے تمام حربوں کا توڑ کرنا لازمی بن گیا ہے، جن کے تحت یہاں کے لوگوں کو علاقائی، لسانی خصوصاً مذہبی بنیادوں پرتقسیم کرنے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں۔

      فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت پھیلا کراپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا بی جے پی کا پُرانا شیوا رہا ہے اوریہ جماعت اس وقت بھی اپنے فوائد کے لئے ریاست میں آگ لگانے پر تلی ہوئی ہے۔

      ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ علی محمد ساگر نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں کارکنوں اورعہدیداروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
      اجلاس میں معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، جنوبی زون صدر محمد اکبر لون، وسطی زون صدر علی محمد ڈار،جنوبی زون صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری، سینئر نائب صدر صوبہ محمد سعید آخون، صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میراورضلع صدرسری نگر پیرآفاق احمد بھی موجو دتھے۔
      محمد ساگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ڈی پی کی مہربانی سے آج بی جے پی والے یہاں کھلے عام دفعہ370  ہٹانے، مسلم پرسنل لاء ختم کرنے، یکساں سول کوڈ نافذ کرنے اوررام مندرکی تعمیرکی باتیں کررہے ہیں۔


      انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بقول اُن کے خودساختہ لیڈران آج جموں وکشمیر میں آکر اپنی تقریروں میں بڑی بڑی باتیں اور بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کا ماضی داغ دار ہے اور اُن کے ہاتھ ہزاروں معصوموں کے خون سے رنگے ہیں۔
      این سی جنرل سکریٹری  ساگر نے کہا کہ ’سیو ڈیموکریسی ڈے‘ منانے والوں نے ملک میں جمہوریت اور سیکولرزم کا گھلا گھونٹا، جموریت کو کرپشن کی نذر کردیا، اقلیتوں کا قافیہ حیات تنگ کردیا، مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں بے جا مداخلت کرکے مذہبی آزادی سلب کردی، گئورکشا کے نام پرقتل عام اورماردھاڑکروایا۔
      پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے علی محمد ساگر نے کہا کہ پی ڈی پی نے ساڑھے3سال کی حکومت سازی میں تن دہی اورلگن کے ساتھ بی جے پی اورآرایس ایس کے فرمانوں پر عمل کیا اوران کشمیردشمن جماعتوں کے ایجنڈا کی آبیاری کی۔ قلم دوات جماعت والوں کی اقتدار کی خاطر اپنے ضمیر تک کا سودا کیا ۔
      پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت میں یہاں جی ایس ٹی سمیت 4  مرکزی قوانین کو لاگو کیا، جو ریاست کی خصوصی پوزیشن اور اقتصادی خودمختاری پر کاری ضرب کے مترادف ہے۔
      انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی اوربی جے پی نے مل کر ایک طرف جموں وکشمیر کو بدعنوانی، اقرباپروری اوررشوت ستانی میں مکمل طورپرغرق کردیا اوردوسری جانب جنگل راج قائم کرکے یہاں قتل و غارت اور ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔
      First published: