ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جموں وکشمیرمیں محض دکھاوے کیلئے الیکشن کا انعقاد جمہوریت پرکاری ضرب: نیشنل کانفرنس کا سنگین الزام

وادی میں پہلے دومرحلوں میں149بلدیاتی وارڈوں میں سے 69 پراُمیدواربلا مقابلہ کامیاب ہونا لوگوں کی عدم دلچسپی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 01, 2018 11:25 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جموں وکشمیرمیں محض دکھاوے کیلئے الیکشن کا انعقاد جمہوریت پرکاری ضرب: نیشنل کانفرنس کا سنگین الزام
نیشنل کانفرنس کے لیڈر علی محمد ساگر: فائل فوٹو

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے وادی کشمیر کے موجودہ حالات کو مخدوش قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ چاروں طرف خوف وہراس کا ماحول ہے، غیریقینیت اوربے چینی کی صورتحال میں لوگ عدم تحفظ کے شکارہیں اورایسے حالات میں الیکشن کا انعقاد کرواکے جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔

ان باتوں کا اظہارانہوں نے پیرکے روزیہاں پارٹی ہیڈ کوارٹرپرایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پارٹی کے سینئرلیڈرشریف الدین شارق(سابق ایم پی)، سینئرلیڈروسابق وزیرجاوید احمد ڈار(ضلع صدر بارہمولہ)، سینئرلیڈرشیخ محمد رفیع اورصوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میرکے علاوہ کئی عہدیداران بھی موجود تھے۔

نیشنل کانفرنس  جنرل سکریٹری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب جموں وکشمیرکی تقریباً تمام مقامی جماعتیں ریاست کی خصوصی پوزیشن (دفعہ35اے) کے دفاع کے لئے الیکشن سے دوری اختیارکئے ہوئے ہیں، الیکشن کا انعقاد کروانا جمہوریت پرکاری ضرب ہے۔

انہوں نے کہا کہ وادی کشمیرمیں پہلے دومرحلوں میں149بلدیاتی وارڈوں میں سے 69 پر اُمیدواربلا مقابلہ کامیاب قرارپائے گئے ہیں، جس سے الیکشن کے تئیں لوگوں کی عدم دلچسپی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان انتخابات کے لئے بیشتراُمیدوار ایسے سامنے آئے ہیں، جو مشکوک ہیں اورجن کا ماضی جرائم پیشہ رہا ہے۔


 

یہ بھی پڑھیں: بلدیاتی و پنچایتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ مجبوراً کرنا پڑا: عمر عبداللہ

 

انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ جنوبی کشمیر کے درجن بھربلدیاتی وارڈوں پرمہاجروں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا ہے، جو دہائیوں سے باہر قیام پذیر ہیں۔ محض دکھاوے کے لئے منعقد کرائے جارہے الیکشن کے لئے جمہوریت کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں، نیز الیکشن عمل کا مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوٹ بندی اورجی ایس ٹی کے بعد پیٹرول مصنوعات میں اضافہ نےعوام کی کمرتوڑدی: فاروق عبداللہ

انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت نے 2011 میں پنچایتی الیکشن کروائے اُن میں 80 فیصد لوگوں نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا اوران میں ہزاروں اُمیدواروں نے اپنی قسمت آزمائی۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اس وقت دفعہ 35اے اور دفعہ 370کے دفاع کے لئے میدانِ کارزار میں سرگرم ہے۔ اسی مقصد کی خاطر ہم نے الیکشن عمل کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے اور اس بات کا برملا اعلان کیا ہے کہ جب تک دفعہ 35اے پرمرکز کی طرف سے پوری یقین دہانی نہیں آتی تب تک نیشنل کانفرنس الیکشن میں حصہ نہیں لے گی۔

یہ بھی پڑھیں:          فاروق عبداللہ کی وارننگ "دفعہ 35 اے پرمرکزی حکومت واضح کرے موقف، ورنہ لوک سبھا الیکشن کا کریں گے بائیکاٹ"۔

یہ بھی پڑھیں:   کارگل کونسل الیکشن میں نیشنل کانفرنس- کانگریس کا پرچم، بی جے پی- پی ڈی پی کوجھٹکا

 

 
First published: Oct 01, 2018 11:23 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading