உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'فاروق عبداللہ نےکہا 'ہم پاکستانی نہیں ہیں، لیکن پاکستان کےہمدرد ہیں۔

    جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

    جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

    نیشنل کانفرنس کے صدراورسابق وزیراعلیٰ نے وزیراعظم نریندرمودی اورامت شاہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کوڈرانا اوردھمکانا بند کریں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      گاندربل: نیشنل کانفرنس کےصدرڈاکٹرفاروق عبداللہ نے بی جے پی صدرامت شاہ اور وزیر اعظم نریندرمودی کو بقول ان کے کشمیریوں کوڈرانا اوردھمکانا بند کرنے کا مشورہ دیتے ہوئےکہا ہےکہ 'ہم نے بہت دھمکیاں دیکھی ہیں، اگرآپ دفعہ 370 کو ہٹانا چاہتے ہیں توہٹا کے دیکھئے، ہم بھی دیکھیں گےکہ پھرالحاق رہتا ہے کہ نہیں، شاید اللہ نے ہماری نجات اسی میں رکھی ہو۔ تم خدا نہیں ہو، نہ کبھی خدا بن سکتے ہو، خدا وہی ایک ہے اوروہی عزت دینے والا اورذلت دینے والا ہے'۔
      فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہارمنگل کے روزگاندربل میں مادرمہربان اسٹیڈیم میں انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پرجنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹرشیخ مصطفےٰ کمال، ضلع صدرسابق ایم ایل اے شیخ اشفاق جباراورمشتاق احمد گوروبھی موجود تھے۔
      ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم نہ صرف اس ریاست کے لئے بلکہ سارے وطن کےلئے لڑرہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یہ وطن ایک رہے، جو سب کا وطن ہو، مسلمان کا بھی اُتنا ہی وطن ہو جتنا ہندوکا ہواورسکھ کا بھی اُتنا ہی ہوجتنا عیسائی کا ہو۔ وطن میں کچھ مغرورعناصرکا تکبربڑھ گیا ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ مودی کے بغیر ہندوستان کو بچانے والا کوئی نہیں، شاید انہیں معلوم نہیں کہ کم قد والے لال بہادر شاستری نے بھی ہندوستان چلایا اوردیوی گوڑا نے بھی ہندوستان کو اچھی طرح سنبھالا۔ ایک دن مودی کوبھی جانا ہے، شاید بہت جلد جانا ہوگا تب کیا ہندوستان نہیں چلے گا؟
      نیشنل کانفرنس کے صدرنےکہا کہ 'ہندوستان میں جوبھی مودی اورامت شاہ سے سوال پوچھتا ہے یہ لوگ اُسے ملک مخالف اور پاکستانی بتلاتے ہیں۔ یہ لوگ ہم کو بھی پاکستانی بولتے ہیں، اگرہم کو پاکستان جانا ہوتا تو ہم 1947میں چلے جاتے، ہمیں دنیا کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی'۔ انہوں نے کہا 'ہم نے کبھی نہیں کہا ہم پاکستانی ہے، ہاں ہم پاکستان کے ہمدرد ہیں کہ وہ زندہ رہے، خود ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نےلاہورمیں منارِپاکستان کے پاس کہا کہ میں ہندوستان کا وزیراعظم میں آپ سے کہتا ہوں ہم پاکستان قبول کرتے ہیں اورہم مضبوط پاکستان چاہتے ہیں تاکہ ہم دوستی میں رہ سکیں۔ کرناہ ٹنگڈارمیں بھی اٹل بہاری واجپئی نےکہا کہ دوست بدلے جاسکتے ہیں، لیکن پڑوسی نہیں'۔
      ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی والےکہتے ہیں کہ دفعہ370عارضی ہے، اگرآئین کہ یہ دفعہ عارضی ہے تو الحاق بھی عارضی ہے کیونکہ الحاق کی بنیاد رائے شماری تھی جس کو ہندوستان اورپاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل میں تسلیم کیا ہے، سیکورٹی کونسل کی قراردادیں آج بھی موجود ہیں، امت شاہ، مودی اوردیگر بھاجپا والوں کو ان کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ دونوں ممالک نے قراردادوں پرعملدرآمد میں اڑچنیں پیدا کی اور کئی سال اس پر لڑائی چلتی رہی، کبھی ایک ملک نے اعتراض جتلایا تو کبھی دوسرے ملک نے رائے شماری نہیں ہونی دی۔ پھرشیرکشمیرشیخ محمد عبداللہ کو جیل بھیج دیا گیا کیونکہ انہوں نے سر نہیں جھکایا۔ مرتے دم تک شیرکشمیر نے نئی دلی کے سامنے سر نہیں جھکایا، 1975میں بھی انہوں نے اُس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے وعدہ لیا تھا کہ آج نئی شروعات ہے، لیکن ہمیں واپس 1953کی پوزیشن پرجانا ہے، جس پر حامی بھری گئی تھی۔ اندرا گاندھی کو ارسال کیا گیا وہ خط آج بھی موجود ہے۔
      First published: