உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسئلہ کشمیرکے تمام متعلقین کے ساتھ بات چیت شروع کی جائے: فاروق عبداللہ

    نیشنل کانفرنس کے صدرنے کہا کہ ہم باربارنئی دلی سے پاکستان سمیت مسئلہ کشمیرکےتمام متعلقین کے ساتھ بات چیت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اورہم پھرسےاپنا یہ مطالبہ دہراتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر اورکوئی چارہ نہیں۔

    نیشنل کانفرنس کے صدرنے کہا کہ ہم باربارنئی دلی سے پاکستان سمیت مسئلہ کشمیرکےتمام متعلقین کے ساتھ بات چیت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اورہم پھرسےاپنا یہ مطالبہ دہراتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر اورکوئی چارہ نہیں۔

    نیشنل کانفرنس کے صدرنے کہا کہ ہم باربارنئی دلی سے پاکستان سمیت مسئلہ کشمیرکےتمام متعلقین کے ساتھ بات چیت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اورہم پھرسےاپنا یہ مطالبہ دہراتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر اورکوئی چارہ نہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدرورکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نےمسئلہ کشمیرکے حل کے لئےاندرونی اوربیرونی سطح پربات چیت کا عمل شروع کرنے پرزوردیتے ہوئے مرکزی حکومت سےکہا ہےکہ وہ سنہری موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بار بارنئی دلی سے پاکستان سمیت مسئلہ کشمیرکے تمام متعلقین کے ساتھ بات چیت کرنےکا مطالبہ کرتے ہیں اورہم پھرسےاپنا یہ مطالبہ دہراتے ہیں کیونکہ اس کے بغیراورکوئی چارہ نہیں۔ وقت گزاری اورمذاکرات سےآنکھیں چرانے سے مسائل اورزیادہ پیچیدہ ہورہے ہیں، جو کسی بھی صورت میں سود نہیں ہوسکتا۔

      فاروق عبداللہ نےکہا کہ دفعہ 370 اور35 اے سے متعلق بھاجپا لیڈران کے حالیہ بیانات پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نےکہا کہ یہ معاملات ملک کی سب سے بڑی عدالت میں زیرسماعت ہیں اوربی جے پی کے لیڈران ان دفعات کوہٹانےکی بات کرکے عدالت کی توہین کررہے ہیں۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں 3 اپریل 2018 کوہی سپریم کورٹ نےاپنےایک فیصلےمیں دفعہ 370 کوآئین کا مستقل حصہ مانا ہے۔ اس لئے بی جے پی کا یہ سارا شورشرابہ اورہاہا کاربےمعنی اوربے وقعت ہے۔ انہوں نےکہا کہ دفعہ 35 اے کا معاملہ بھی زیرسماعت ہے ، بی جے پی لیڈران عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ نہیں سنا سکتے۔
      نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ بی جے پی لیڈران کے ایسے بیانات سے پہلے ہی غیر یقینیت کی شکار وادی میں مزید غیر یقینیت بڑھ رہی ہے۔ وزیرا عظم نریندر مودی کو اپنی پارٹی سے وابستہ ایسے لیڈران کی لگام کسنی چاہئے جو جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن سے متعلق ایسے بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 ملک اور جموں و کشمیرکے درمیان پل کی مانند ہےاوراگریہ پُل نہیں رہے گا تو رشتہ کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ اس لئے وزیراعظم ہند اوربی جے پی کے دیگر لیڈران کوملک کےآئین کومقدم جان کرجموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت کوتسلیم کرلینا چاہئے۔
      یاترا کی سیکورٹی کے نام پر شاہراہ پر عام ٹریفک کی پابندی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئےفاروق عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ گورنر انتظامیہ نے پابندی 6 گھنٹے سے کم کرکے 2 گھنٹےکردی ہے تاہم اس پابندی کا بھی کوئی جواز نہیں۔ ایسے اقدامات سے لوگوں میں دوریاں بڑھتی ہے۔ یاترا دہائیوں سے خوش اسلوبی کے ساتھ جاری ہے، پھراس مرتبہ شاہراہ بند کرنے کی توبت کیوں آن پڑی۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرکز ی سرکاراورگورنرانتظامیہ کو ایسےاقدامات اورفیصلوں سےگزیرکرنا چاہئے، جس سے جموں و کشمیرکے لوگ خود کو الگ تھلک محسوس کرنے لگے۔
      First published: