ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

غائبانہ نمازجنازہ جرم نہیں، کشمیری طلباء کو پشت بہ دیوارکرنے کی کارروائیاں ناقابل قبول: نیشنل کانفرنس

نیشنل کانفرنس کے جنوبی زون صدرڈاکٹربشیراحمد ویری نے کہا کہ نمازِ جنازہ کی ادائیگی نہ توآئین کی خلاف ورزی ہے اورنہ ہی ملک کے خلاف غداری ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 16, 2018 08:40 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
غائبانہ نمازجنازہ جرم نہیں، کشمیری طلباء کو پشت بہ دیوارکرنے کی کارروائیاں ناقابل قبول: نیشنل کانفرنس
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: فائل فوٹو

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے جنوبی زون صدرڈاکٹربشیراحمد ویری نے بقول ان کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کشمیری طلباء کو پشت بہ دیوارکرنے کی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض غائبانہ نمازِجنازہ ادا کرنے کے معاملے پر طلباء کو یونیورسٹی سے معطل کرنا، غداری کا کیس درج کرنا اورخصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینا بات کا بتنگڑ بنانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہاکہ نمازِ جنازہ کی ادائیگی نہ توآئین کی خلاف ورزی ہے اورنہ ہی ملک کے خلاف غداری، تو پھران طلباء کوکس بات پرنشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ’ نام نہاد قوم پرستی کے نام پرلوگوں کی مذہبی آزادی سلب کی جارہی ہے اوراقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔

اس معاملے کو جان بوجھ کرہردن گزرنے کے ساتھ پیچیدہ بنایا جارہا ہے، جو انتہائی افسوسناک اورتشویشناک امرہے‘۔ ڈاکٹرویری نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ اس قسم کی کارروائیوں سے پہلے سے پشت بہ دیوارکشمیری نوجوانوں کے غم وغصے میں مزید اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ ایک طرف کشمیری نوجوانوں کے ساتھ افہام و تفہیم اورمصلحت کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں اوردوسری جانب ایسے اقدامات کرکے انہیں مزید الگ تھلگ کرنے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں۔

ڈاکٹرویری نے ریاستی گورنرستیہ پال ملک کی طرف سے مرکزی وزیرپرکاش جاویڈکر کے ساتھ یہ معاملہ اُٹھانے کا خیرمقدم کیا ہے اورکہاکہ مجھے اُمید ہے کہ گورنر صاحب کی مداخلت کے بعد یہ معاملے جلد ہی حل ہوجائے گا اوران طلباء کے تعلیمی کیریرپرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔


بتادیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیرتعلیم دو کشمیری طالب علموں کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جبکہ متعدد دیگر کے نام وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے احاطے میں منان بشیروانی کے لئے غائبانہ نمازجنازہ کا اہتمام کیااورآزادی کے حق میں نعرے لگائے۔ یونیورسٹی کی کاروائی کے ردعمل میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم 1200 کشمیری طالب علموں نے کیمپس چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کشمیری طالب علموں کے خلاف جاری مبینہ انتقامی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:    منان بشیر وانی کی موت کے بعد اے ایم یو میں غائبانہ نماز جنازہ کی ناکام کوشش ، تین طلبہ معطل

یہ بھی پڑھیں:    ان کشمیری نوجوانوں پر بھی ہو سکتی ہے کارروائی جو اے ایم یو کے طلبہ نہیں

یہ بھی پڑھیں:     جموں و کشمیر : مارا گیا ملی ٹینٹ منان بشیر وانی، پڑھائی چھوڑ کر حزب المجاہدین میں ہوا تھا شامل
First published: Oct 16, 2018 08:39 PM IST