ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مخلوط حکومت کی وجہ سے پی ڈی پی نے مرحوم مفتی سعید کی بےعزتی برداشت کی تھی: عمرعبداللہ

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ جموں وکشمیرکواب مخلوط طرزکی حکومت کی ضرورت نہیں ہے اب کی باریہاں ایک ہی جماعت کی حکومت قائم ہونی چاہئے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 15, 2019 09:23 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مخلوط حکومت کی وجہ سے پی ڈی پی نے مرحوم مفتی سعید کی بےعزتی برداشت کی تھی: عمرعبداللہ
عمر عبداللہ: فائل فوٹو۔

سری نگر:  نیشنل کانفرنس کے نائب صدراورسابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیرکواب مخلوط طرزکی حکومت کی ضرورت نہیں، مخلوط حکومت میں ہاتھ بندھے رہتے ہیں، متواترمخلوط حکومتوں کی وجہ سے ریاست اورریاستی عوام کو کافی نقصان جھیلنا پڑا، اب کی باریہاں ایک ہی جماعت کی حکومت قائم ہونی چاہئے تاکہ تعمیروترقی اور عوامی خدمت وراحت کاری ، صحیح ڈھنگ سے ہو۔


عمرعبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ محبوبہ مفتی کو کس زاوئے سے مخلوط طرز حکومت صحیح لگتی ہے، اگر پی ڈی پی- بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت میں نہ ہوتی تو شاید وزیراعظم نریندر مودی سری نگرمیں مرحوم مفتی محمد سعید کو عوامی جلسے کے دوران اپنے مشورے اپنے پاس رکھنے کی بات کہہ کربےعزتی نہیں کرتے۔ اُس وقت نہ تو پی ڈی پی اورنہ ہی محبوبہ مفتی نے نریندر مودی کے ریمارکس پر کوئی ردعمل ظاہرکیا کیونکہ اُس وقت قلم دوات جماعت والوں کوکرسی کی فکرتھی، اگر یہ لوگ اُس وقت مخلوط حکومت میں نہ ہوتے تو شاید وہ نریندرمودی کی طرف سے مرحوم مفتی محمد سعید کی بے عزتی برداشت نہیں کرتے۔

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر منگل کوجنوبی کشمیرکے کولگام میں پارٹی عہدیداروں اورکارکنوں کے ایک روزہ کنونشن سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر لیڈرسکینہ ایتواورجنوبی زون صدر ڈاکٹربشیراحمد ویری کے علاوہ کئی لیڈران بھی موجود تھے۔

ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے اُس بیان جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں کوئی آپریشن آل آﺅٹ نہیں، پر بات کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ گورنرانتظامیہ اور فوجی کو پہلے آپس میں بیٹھ کر یہ طے کرنا چاہئے کہ یہاں چل کیا رہا ہے؟ حکومت ایک بات کہتی اورفوج دوسری بات کرتی ہے۔ فوج نے یہاں اعلاناً آپریشن آل آﺅٹ جاری رکھا ہے اور حکومتی سطح پر اس کی تردید ہورہی ہے۔

پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو ریاست میں نیشنل کانفرنس کی لہر پرتوجہ نہ دیتے ہوئے زمینی سطح پرمحنت کرنے کی تاکید کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ 2014میں جسے بی جے پی اور پی ڈی پی کی لہرکہا گیا وہ پھر یہاں کے عوام پر ایک سونامی بن کرٹوٹ پڑی، ہمیں ایسی لہرنہیں چاہئے، ہم عوام سے ہیں اورہمیں ہرحال میں عوام کی اُمنگوں، جذبات اور احساسات کا خیال رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے 2015میں عوامی منڈیٹ کے برعکس جھوٹ کی بنیاد پر بی جے پی کے ساتھ حکومت بنائی، جو تباہی اوربربادی کی بنیادی وجہ بن گئی۔ پی ڈی پی والوں نے الیکشن کے دوران بی جے پی کے خلاف بیان بازی کی اورانہیں کشمیرسے باہررکھنے کے لئے عوام سے ووٹ طلب کئے اوربعد میں لوگوں کے اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچائی۔ ایسے ہی بھاجپا والوں میں جموں کے عوام سے کئے گئے وعدوں سے انحراف کیا اور لوگوں کے منڈیٹ کو ٹھیس پہنچائی۔
عمرعبداللہ نے پارٹی سے وابستہ ہر ایک فرد کو زمینی سطح پر کام کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس جلدہی اپنا منشورمنظرعام پرلائے گی اورمجھے اُمید ہے کہ پارٹی کارکنوں پارٹی کا منشور گھر گھر تک پہنچائیں گے۔ کنونشن میں عمرعبداللہ کے سیاسی صلح کارتنویرصادق، ضلع صدر کولگام ایڈوکیٹ عبدالمجید لارم، صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار، سینئر لیڈران ڈاکٹر محمد شفیع، پیر محمد حسین، صفدر علی خان، ایڈوکیٹ عبدالاحد تانترے کے علاوہ بلاک صدور صاحبان بھی موجود تھے۔
First published: Jan 15, 2019 09:23 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading